ٹی وی چینلز کو اشتہارات کی تقسیم سے متعلق اعتراف کے بعد مریم نواز مشکل میں پھنس گئیں

وزارت اطلاعات نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے اعتراف پر تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات 25 نومبر 2021 13:57

ٹی وی چینلز کو اشتہارات کی تقسیم سے متعلق اعتراف کے بعد مریم نواز مشکل ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 نومبر 2021ء) : نائب صدر ن لیگ کی اشتہارات سے متعلق لیک آڈیو کا معاملہ،وزارت اطلاعات نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے اعتراف پر تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی۔کمیٹی مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں میڈیا کو جاری اشتہارات میں بے ضابطگیوں اور میڈیا سیل کے ذریعے من پسند صحافیوں اور مختلف میڈیا گروپس کو نوازنے سے متلق اپنی رپورٹ مرتب کرے گی۔

وزارت اطلاعات کے مطابق مریم نواز کی سرپرستی میں قائم میڈیا سیل کے ذریعے قومی خزانے سے وفاقی حکومت کے 9 ارب 62 کروڑ 54 لاکھ 3 ہزار 902 روپے خرچ کیے گئے۔مذکورہ میڈیا سیل سے پنجاب کی ایڈورٹائزمنٹ کو کنٹرول کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے۔تحقیقاتی کمیٹی میڈیا سیل کے ذریعے سرکاری رقوم کے غیر قانونی استعمال کے معاملات کی تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ مرتب کرے گی۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ گذشتہ روز مریم نواز نے مختلف ٹی وی چینلز کو اشتہارات نہ دینے کے حوالے سے لیک ہونے والی ویڈیو کا اعتراف کیا۔انہوں نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی جس میں ان سے لیک ویڈیو سے متعلق سوال کیا گیا۔مریم نواز نے کہا کہ جو آڈیو چلائی جا رہی ہے وہ آواز میری ہے۔میں یہ نہیں کہوں گی کہ جوڑ توڑ کر بنائی گئی،اشتہائی روکنے کا حکم دینے والی آواز میری تھی۔

میں نے پارٹی کا میڈیا سیل چلاتے وقت وہ بات کی ۔مریم نواز نے کہا کہ اس متعلق تفصیلی بات بعد میں کروں گی۔
۔واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بعد مریم نواز کی بھی ایک آڈیو ٹیپ لیک ہو گئی تھی جس میں وہ مختلف چینلز کے اشتہار روکنے کی ہدایت کر رہی ہیں۔ یہ آڈیو ٹیپ مسلم لیگ ن کے دور کی تھی، جس میں مریم نواز کی میڈیا ٹیم کو دی جانے والی ہدایات ہیں۔

مبینہ آڈیو لیک میں مریم نواز نے کئی چینلز کے اشتہار روکنے کی ہدایت کی۔ آڈیو ٹیپ میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ٹوئنٹی فورنیوز، نائنٹی ٹونیوز،سماء اور اےآروائی کوبالکل کوئی اشتہار نہیں دیا جائے گا۔
مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کی یہ مبینہ آڈیو ٹیپ لیک ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے تبصرے کیے جا رہے تھے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں صحافیوں پر پابندی لگنے اور میڈیا کے کنٹرول ہونے کا شور کرنے والے اپنے دور حکومت میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں اس کا ثبوت سامنے آ گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کی مبینہ آڈیو ٹیپ لیک ہونے کے بعد معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہیں اب صحافت کتنی آزاد ہے، اب پریس کلب اس پرکیا بیان جاری کرتے ہیں۔

آڈیو ٹیپ پر بات کرتےہوئے ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ اگر سب چپ رہے تو پھر ثابت ہو جائے گا کہ کچھ لوگوں کی صحافت آزاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس آڈیو ٹیپ پر سب چپ رہے تو یہ ثابت ہوگا کہ کچھ لوگوں کی صحافت مریم کے پاس گروی پڑی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر شہباز گل نے مزید کہا کہ یہی کچھ اگر پاکستان تحریک انصاف والوں نے کیا ہوتا تو توآزاد صحافت نے اب تک مذمت کردینی تھی، جھوٹے منہ ہی کچھ کرلیں۔