Live Updates

بھارت: کووڈ-19 کے پھیلاؤ کے باوجود ہزاروں افراد کا دریائے گنگا میں مذہبی اجتماع

جمعہ 14 جنوری 2022 23:46

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 جنوری2022ء) بھارت میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران کووڈ-19 کے کیسز میں اضافے کے باوجود دریائے گنگا میں اشنان (مذہبی رسم) کے لیے سیکڑوں افراد جمع ہوگئے۔غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال سے گزرنے والے دریا میں ہندو مذہب کے ماننے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی جہاں مغربی ریاست مہاراشٹر کے بعد کورونا کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

?ہندو مذہب کے پیروکاروں کا اعتقاد ہے کہ دریائے گنگا میں اشنان سے گناہ دھل جاتے ہیں اور یہ رسم ہر سال 14 جنوری کو منعقد ہوتی ہے۔بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش کے مذہبی شہر پریاگ راج (الہ آباد) میں دریا کنارے جمع ہزاروں پیروکاروں میں سے چند نے ماسک پہنا ہوا تھا۔

(جاری ہے)

اترپردیش میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ دریائے گنگا آنے والے رام فل تریپاتھی کا کہنا تھا کہ میں ماسک کے ساتھ سانس نہیں لے سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سال میں یہاں مقدس غسل کے لیے آتا ہوں تو رواں برس میں کیسے اس موقع کو جانے دیتا۔خیال رہے کہ بھارت میں ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کے کیسز خطرناک انداز میں پھیل رہے ہیں جس کی وجہ تیزی سے پھیلنے والا ویریئنٹ اومیکرون ہے تاہم ہسپتالوں میں داخلوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں انتہائی کم ہے اور اکثر لوگ گھروں میں ہی رہ کر صحت یاب ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹروں نے وائرس کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے حکام سے مغربی بنگال میں ہونے والی مذہبی رسم کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہیں ناکامی ہوئی۔گزشتہ برس بھی شمالی بھارت میں ایک بڑے مذہبی اجتماع سے ملک بھر میں کورونا کے ریکارڈ کیسز سامنے آئے تھے اور بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔بھارت کی وزارت صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران رپورٹ ہونے والے کورونا کیسز کے بارے میں بتایا کہ 2 لاکھ 64 ہزار 202 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں اب کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 65 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔بھارت میں چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 315 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد عالمی وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بھی بڑھ کر 4 لاکھ 85 ہزار 350 ہوچکی ہے۔اومیکرون کے کیسز میں اضافے کے بعد نئی دہلی میں گزشتہ ہفتے رات کا کرفیو نافذ کیا گیا تھا اور حکام نے مزید پابندیوں کا عندیہ دیا تھا۔
Live کرونا کی نئی قسم اومیکرون کا پھیلاو سے متعلق تازہ ترین معلومات
>