ڈالر 20 سے 25 روپے تک مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا گیا
منی ایکسچینجرز پر وِد ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی وجہ سے ڈالر مہنگا ہو سکتا ہے: ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان
محمد علی
ہفتہ 22 جنوری 2022
23:45
(جاری ہے)
دراصل یہ وِد ہولڈنگ ٹیکس 2016 میں واپس لے لیا گیا تھا لیکن اب جنوری 2022 میں اچانک اربوں کے ٹیکس بلز چند منی چینجرز کو بھیج دیے گئے ہیں جن کو واپس لینے کے لیے ایف بی آر سے بات چیت چل رہی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر ان ٹیکس بلز کو واپس لے لے گا۔پاکستان میں چند بڑے منی چینجرز نے اپنی ایسوسی ایشن کو بتایا کہ ایف بی آر نے انہیں کروڑوں روپے کے ود ہولڈنگ ٹیکس کے بلز بھیجے جو انہیں ادا کرنے ہیں۔یہ بلز اتنی بڑی رقم کے ہیں کیوں کہ نگراں ادارے نے انہیں 2014 سے 2021 تک کے حساب سے بھیجا ہے۔ظفر پراچہ نے بتایا کہ حال ہی میں بھیجے جانے ٹیکس بلز کے بعد پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ان کے مطابق یہ معاملہ 2010 سے چل رہا تھا لیکن 2016 میں یہ ٹیکس واپس لے لیا گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈبل ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا۔انہوں نے بتایا کہ یہ ٹیکس صرف پاکستان سے باہر بھیجے جانے والے ترسیلات زر (رمیٹینسز) پر لگایا گیا تھا جو منی چینجرز کو گاہکوں سے وصول کرنا تھا۔اس وقت بھی ہمارا موقف تھا کہ یہ ٹیکس ہم پر نہیں لگتا کیوں کہ دیگر ممالک سے ٹیکس سے متعلق ایک معاہدہ ہے اور ڈبل ٹیکس نہیں لگ سکتا۔اگر 16 فیصد کے حساب سے ٹیکس کے بلز بھیجے گئے ہیں تو روپے پر 25 سے 28 فیصد فرق آئے گا۔انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں اس کے علاوہ بھی ایف بی آر نے کئی نوٹسز بھیجے ہیں۔منی چینجرز کی تنظیم ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق یہ ٹیکس 2016 میں واپس لے لیا گیا تھا لہذا اب یہ ٹیکس قابل ادا نہیں۔اور اگر یہ ٹیکس لاگو ہوا تو پھر کیوں کہ اسے گاہکوں سے وصول کیا جانا ہے لہذا اس کا اثر پہلے سے ہی دباو میں آئے ہوئے ڈالر پر پڑے گا جو کہ مہنگا ہوجائے گا۔ اس تمام معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان ازارت خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ یہ معاملہ ایف بی آر اور ایکسچینج کمپنیز کے درمیان ہے اور ٹیکس لائبلٹی کا معاملہ ہے۔اس سوال پر کہ ایکسچینج کمپنیز کا کہنا ہے کہ وہ ود ہولڈنگ ٹیکس صارفین کو منتقل کر دیں گے جس سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوگا، مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر ایکسچینج کمپنیز طے نہیں کرتیں، جس ادارے پر ٹیکس کی لائبلٹی ہے وہ ڈالر مہنگا بیچ لے جس پر نہیں وہ سستا بیچ لے، گاہک کو اس کے پاس سے سستا ملے گا وہ اس کے پاس جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کے معاملے پر دو تین دن سے خبریں گردش کر رہی ہیں لیکن ڈالر 20 سے 25 روپے مہنگا نہیں ہوا کیوں کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی اپنی مرضی سے ڈالر کا ریٹ طے کرے۔ اگر کسی نے قانون یا ضابطے سے ہٹ کر ڈالر کی قدر میں اضافے کی کوشش کی تو پھر سٹیٹ بینک اس معاملے کو اپنے طریقے سے دیکھے گا اور قانون حرکت میں آئے گا۔مزید اہم خبریں
-
جو خود سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹر بن کر بیٹھے ہیں، وہ فوجی ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ نہیں کرسکتے
-
سوڈان: بیرونی طاقتیں جنگ کو ہوا دے رہی ہیں، تحقیقاتی کمیشن
-
مسلمان ہونا جرم بن گیا، دہلی پولیس کے افسر کا خاتون صحافی پر تشدد
-
یہاں پر وزیر کے پاس تمام طاقت ہونے کے باوجود ہم کچھ کرنہیں پاتے
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری
-
موجودہ سسٹم ڈلیور نہیں کررہا، ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیئے
-
ڈیفنس تشدد انکوائری، ایس ایس پی فدا جانوری اور پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی سفارش
-
ڈی جی (سی) میجر جنرل فیصل نصیر کو نیکٹا کا قومی کوآرڈینیٹر تعینات کر دیا گیا
-
عمران خان کو توڑنے کی ہر کوشش ناکام ہوئی، وہ آج بھی چٹان کی طرح قائم ہے
-
عمران خان نے مجھے وزیراعلیٰ بنایا لیکن موروثی سیاست کے وارث نہیں چاہتے کہ عام آدمی آگے آئے
-
جرمن سیاسی جماعتیں مہاجرت کا پس منظر رکھنے والے ووٹروں کو کیوں کھو رہی ہی؟
-
کراچی ڈیفنس میں کم عمر نوجوان پر تین افراد کا بیہمانہ تشدد، ڈنڈے مار کر ٹانگ توڑ دی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.