جوپہلے گاڑیاں بیچ چکے ہیں، وہ ایکسائز سے رابطہ کریں اور شناختی کارڈ کی کاپی فراہم کریں ، ڈی آئی جی ٹریفک

بدھ 29 اکتوبر 2025 15:26

جوپہلے گاڑیاں بیچ چکے ہیں، وہ ایکسائز سے رابطہ کریں اور شناختی کارڈ ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اکتوبر2025ء) ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے خبردار کیا ہے کہ بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلانے پر 20 ہزار روپے چالان ہوگا، تمام شہری اپنے ڈرائیونگ لائسنس اپڈیٹ رکھیں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر اب کسی کو چھوٹ نہیں دی جائے گی،گزشتہ دو دنوں میں6ہزار 500 سے زائد ای چالان کیے گئے ہیں،ہر ایک گاڑی کا چالان الگ اور حتمی رقم کا اندازہ دینا مشکل ہے۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پیرمحمدشاہ نے کہاکہ موٹرسائیکل کا چالان 5 ہزار روپے تک ہو سکتا ہے جبکہ بڑی گاڑیوں پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ بعض معاملات میں ای چالان ایک لاکھ روپے تک بھی ہو سکتا ہے۔ڈی آئی جی ٹریفک نے واضح کیا کہ بغیر نمبر پلیٹ یا غلط نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے خلاف سخت مہم چلائی جائے گی اور ایسی گاڑیوں پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب تک نمبر پلیٹ درست یا اپ ڈیٹ نہیں ہوگی، گاڑی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ گاڑی بیچنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی گاڑی کے متعلق تمام قانونی کارروائی مکمل کرے۔پیر محمد شاہ نے بتایا کہ جو پہلے گاڑیاں بیچ چکے ہیں، وہ ایکسائز سے رابطہ کریں اور شناختی کارڈ کی کاپی فراہم کریں تاکہ سسٹم میں ڈیٹا اپ ڈیٹ ہو سکے۔انہوں نے بتایا کہ شہر میں ریڈ لائٹ، سیٹ بیلٹ نہ پہننے، اوور اسپیڈنگ، ون وے کی خلاف ورزی، موبائل فون پر بات کرنے، اور موٹرسائیکل کے لیے لیفٹ لین کی خلاف ورزی پر ای چالان کیے جا رہے ہیں۔

اب تک 8 سے 10 مختلف مدوں میں ٹکٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق جو شہری لائسنس کے بغیر موٹر سائیکل چلاتے پکڑے جائیں گے، ان پر بیس ہزار روپے چالان کٹے گا، ڈی آئی جی نے اسپیڈ لمٹ کی بھی وضاحت کر دی ہے، انہوں نے کہاکہ تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں کی اسپیڈ لمٹ صرف 60 ہے۔پیر محمد شاہ کے مطابق 60 اسپیڈ سے زیادہ چلانے پر شہریوں کو اوور اسپیڈنگ کا ٹکٹ جاری ہوگا۔

ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق شہر میں 1,076 کیمرے نصب ہیں اور یہ تعداد مستقبل میں 12 ہزار تک بڑھائی جائے گی۔ سسٹم میں 10 ہزار ٹریکرز بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ چالان صاف اور پکی سڑکوں پر بھی جاری ہیں، خاص طور پر شاہراہ فیصل، بلوچ کالونی، فوزیہ وہاب فلائی اوور اور ڈرگ روڈ پر خلاف ورزیاں زیادہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ شہری سہولت کے لیے شہر میں 11 سہولت سینٹر کام کر رہے ہیں جہاں شہری اپنی شکایات اور مسائل کے حل کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔

پیر محمد شاہ نے بتایا کہ پورے سندھ میں یہ سسٹم ایک ماہ کے اندر نافذ کر دیا جائے گا۔ سسٹم کے لیے نوجوانوں کو تربیت بھی فراہم کی گئی ہے اور اب تک 100 سے زائد تربیت یافتہ نوجوان خدمات انجام دے رہے ہیں۔پیر محمد شاہ نے زور دیا کہ ای چالان کا مقصد شہریوں کو محفوظ اور قانون کے مطابق ڈرائیونگ کی طرف راغب کرنا ہے، اور یہ نظام آنے والے وقت میں سندھ بھر میں ٹریفک نظم و ضبط میں بہتری لائے گا۔