کراچی میں ڈی آئی جی ٹریفک کی گاڑی کا 10 ہزار روپے کا ای چالان

صرف دو دن میں 6 ہزار 500 سے زائد ای چالان ہوگئے، ایک دن میں 4 ہزار سے زیادہ خلاف ورزیاں پکڑی گئیں

Sajid Ali ساجد علی بدھ 29 اکتوبر 2025 15:11

کراچی میں ڈی آئی جی ٹریفک کی گاڑی کا 10 ہزار روپے کا ای چالان
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اکتوبر2025ء) صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ڈی آئی جی ٹریفک کی گاڑی کا 10 ہزار روپے کا ای چالان ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں متعارف کرائے گئے ای چالان سسٹم سے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کی سرکاری گاڑی کا چالان گارڈن انٹرچینج پر اس وقت ہوا جب ان کا ڈرائیور سیٹ بیلٹ باندھے بغیر گاڑی چلا جارہا تھا، جس پر ڈی آئی جی کی گاڑی کا 10 ہزار روپے کا چالان ہوگیا، تاہم جس وقت چالان ہوا تو ڈی آئی جی خود گاڑی میں سوار نہیں تھے۔

اس حوالے سے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے بتایا کہ شہر میں اس وقت 1076 کیمرے نصب ہیں جنہیں جلد 12 ہزار تک بڑھایا جائے گا، 10 ہزار ٹریکرز بھی نظام کا حصہ ہیں، دو دن میں 6 ہزار 500 سے زائد ای چالان ہوچکے ہیں، صرف ایک دن میں 4 ہزار سے زیادہ خلاف ورزیاں پکڑی گئیں، سب سے زیادہ خلاف ورزیاں شاہراہِ فیصل، بلوچ کالونی، فوزیہ وہاب فلائی اوور اور ڈرگ روڈ کے اطراف ریکارڈ ہو رہی ہیں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا ہے کہ ای چالان کی رقم گاڑی کی نوعیت پر منحصر ہے، موٹرسائیکل کے لیے چالان 5 ہزار روپے سے شروع ہوتا ہے، بڑی گاڑی کے لیے 20 ہزار روپے تک اور بعض سنگین خلاف ورزیوں میں ایک لاکھ روپے تک کا چالان بھی ہوسکتا ہے، بغیر نمبر پلیٹ یا جعلی پلیٹ والی گاڑیوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی اور ایسی گاڑیوں کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جائے گا جب تک ان کی معلومات ایکسائز ریکارڈ میں درست نہ ہوں، گاڑی بیچنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے اپنے نام سے اتروائے اور جس خریدار کو گاڑی دی ہے اس کے شناختی کارڈ کی کاپی ایکسائز آفس میں جمع کرائے تاکہ ڈیٹا اپ ڈیٹ ہوسکے۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ اس وقت شہر میں 11 سہولت مراکز کام کر رہے ہیں جہاں شہری اپنے چالان یا مسائل کے حل کے لیے رجوع کرسکتے ہیں، یہ سسٹم آئندہ ایک ماہ میں پورے سندھ میں نافذ کردیا جائے گا اور اس کے لیے 100 سے زائد تربیت یافتہ نوجوان خدمات انجام دے رہے ہیں، چاہے ڈی آئی جی کی گاڑی ہو یا عام شہری کی قوانین سب کے لیے برابر ہیں، جب تک ہم سڑکوں پر نظم و ضبط نہیں لائیں گے، حادثے اور جانی نقصان ہوتے رہیں گے۔