ملکی مجموعی زرعی پیداوار میں کپاس میں پنجاب کا حصہ 83فیصدتک پہنچ گی

زرعی منصوبوں پر عملدرآمدکیلئے اربوں روپے کی خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے جس کے مفید نتائج حاصل ہورہے ہیں،ترجمان محکمہ زراعت پنجاب

جمعہ 7 نومبر 2025 14:48

مکو آ نہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 نومبر2025ء) پاکستان کی مجموعی زرعی پیداوار میں صوبہ پنجاب کے زرعی شعبے کا حصہ کپاس میں 83فیصد،گندم میں 80فیصد، چاول میں 97 فیصد،کماد میں 51 فیصد اورآم میں 66 فیصد تک پہنچ گیا ہے جس میں مزید اضافہ کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور صوبہ کی تاریخ میں پہلی بار زرعی پالیسی تشکیل دے کر اس پر عملدر آمد کیاجارہاہے جبکہ زراعت کے شعبے کی اہمیت کے پیش نظر حکومت کی ہدایت پر زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے ورکنگ گروپ بنائے گئے ہیں جن کو فصلوں کی فی ایکڑپیداوا راور زرعی برآمدات میں اضافہ اور تیلدار اجناس کے زیر کاشت رقبہ اور پیداوار میں اضافہ کیلئے جامع منصوبہ بندی کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت کے ترجمان نے بتایاکہ گندم،چاول،کپاس،مکئی،گنے اور تیلدار اجناس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے علاوہ آبپاش کھالوں کی اصلاح، بارانی علاقوں میں منی ڈیمز کے کمانڈ ایریا کو بڑھانے اور کاشتکاروں کوسبسڈی کی براہ راست اور شفاف فراہمی کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایاکہ صوبہ پنجاب میں زرعی منصوبوں پر عملدرآمدکیلئے اربوں روپے کی خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے جس کے مفید نتائج حاصل ہورہے ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ ہماری معیشت قومی سطح پر صنعت، زراعت اور خدمات پر مبنی تین بڑے حصوں پر محیط ہے جبکہ معاشی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا تقریباً 20فیصد زراعت کے شعبے سے حاصل ہوتاہے جس کیلئے پاکستان کی کل لیبر فورس کا 48فیصد حصہ بھی زرعی عمل میں مصروف کار ہے۔انہوں نے بتایاکہ اسی طرح پاکستان کی کل برآمدات میں سے 80فیصد مصنوعات کسی نہ کسی طرح زرعی سرگرمیوں کانتیجہ ہیں نیزپاکستان کے کل رقبے کا57فیصد حصہ کاشت کاری کے قابل ہے جس میں سے کل مزروعہ رقبے کا 69فیصد حصہ صوبہ پنجاب میں ہے۔