رواں سیزن پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف 1 کروڑ 65 لاکھ ایکڑمقرر کیا گیا ہے، افتخار علی سہو

پیر 10 نومبر 2025 23:14

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 نومبر2025ء) گندم کی پیداواری ٹیکنالوجی بارے محکمہ زراعت اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے ملتان میں میگا فارمر کنونشن کا انعقاد کیا گیا ،جس میں سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب میں سابق ایم پی اے رانا اعجاز احمد نون، ایم پی اے رانا اقبال سراج، سپیشل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سرفراز حسین مکسی، ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو، ڈائریکٹر جنرلز محکمہ زراعت پنجاب عبدالحمید، نوید عصمت کاہلوں، ڈاکٹر عامر رسول، کنسلٹنٹ محکمہ زراعت پنجاب ڈاکٹر محمد انجم علی، صدر کسان اتحاد خالد کھوکھر، شازیہ حیات خاکوانی اور پرائیویٹ سیکٹر سے نصیر اللہ خان اور رابعہ سدوزئی سمیت کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہاکہ رواں سیزن پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف 1 کروڑ 65 لاکھ ایکڑ جبکہ ملتان ڈویژن میں قریبا 18 لاکھ ایکڑ مقرر کیا گیا ہے اور اس وقت گندم کی کاشت کی رفتار حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی کاشت اور پیداوار کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو بھرپور اور فعال عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے مزیدکہا کہ ملکی فوڈ سکیورٹی کے لیے گندم ناگزیر ہے،پاکستان کی مجموعی گندم کی ضروریات کا 70 فیصد حصہ پنجاب پیدا کرتا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئندہ گندم کی خریداری 3500 روپے فی من کریں گی جبکہ 62 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے سٹریٹجک ذخائر کے لیے خریداری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سیکرٹری زراعت پنجاب نے نے مزید بتایا کہ مارکیٹوں میں گندم کا تصدیق شدہ بیج 5500 روپے فی بیگ دستیاب ہے، کاشتکار بہتر پیداوار کے حصول کے لیے صرف تصدیق شدہ بیج استعمال کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کھادوں کے متناسب و متوازن استعمال کے بغیر پیداواری اہداف کا حصول ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1700 سے زائد انٹرنیز اور زرعی یونیورسٹیوں کے 5 ہزار سے زائد طلبہ گندم کی کاشت کے اہداف کے حصول کے لیے کاشتکاروں کی رہنمائی میں محکمہ زراعت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔سیمینار میں زرعی ماہرین نے کاشتکاروں کو گندم کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی بارے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر فاطمہ فرٹیلائزر کی جانب سے گندم کے پیداواری مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کاشتکاروں میں ٹریکٹرز، موٹر سائیکلیں اور ایل سی ڈیز کے انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔