کاشتکار السی کی کاشت 30نومبر تک مکمل کرلیں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال

بدھ 12 نومبر 2025 16:37

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 نومبر2025ء) اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال توسیع ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ کاشتکار السی کی کاشت 30نومبر تک مکمل کرلیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کاشتکاروں کے نام اپنے ایک پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ السی کی کاشت کیلئے نومبر کا مہینہ بہترین وقت ہے اور السی کی قسم چاندنی کی کاشت سے شاندار پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ السی کاموزوں وقت کاشت 30 نومبرتک ہے جبکہ السی کی قسم چاندنی1988 میں متعارف ہوئی جس کے پھول سفید رنگ کے اور پودے مضبوط ہوتے ہیں اسلئے آندھی وغیرہ کی صورت میں گرنے سے محفوظ رہتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ اس کے بیج میں تیل کی مقدار40سے42 فیصد ہوتی ہے اور یہ قسم کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف خاصی قوت مدافعت رکھتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ اس کی پیداواری صلاحیت 1500 سے 2000 کلو گرام فی ہیکٹر یعنی 15سے20من فی ایکڑ ہے جبکہ عمومی پیداوار 8سے10من فی ایکڑ حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ السی کی فصل بھی ان فصلوں میں شامل ہے جو کلر کے خلاف کافی حد تک قوت مدافعت رکھتی ہے ،اسلئے السی کی فصل ایسی زمینیں جن میں کلر کی شدت درمیانی درجے کی ہو کامیابی سے اگائی جا سکتی ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے کہاکہ اگر زمین میں کلر کی شدت زیادہ ہو تو زمین کی اصلاح کیمیائی مرکبات مثلا جپسم اور گندھک کے تیزاب کے ساتھ نامیاتی مادے اور سبزکھادوں کا استعمال کر کے اصلاحی عمل کے بعد السی کی کاشت کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ السی موسم ربیع کی ایک منافع بخش فصل ہے جسے پاکستان میں بنیادی طور پر تیلدار فصل کے طور پر کاشت کیا جا تا ہے کیونکہ اس کے بیج میں تیل کی مقدار 35سے 42 فیصد ہو تی ہے اور السی کا تیل جلد خشک ہو جانے کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے پینٹ، وارنش اور چھاپہ کی سیاہی بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ اس کے علاوہ مکانات کے فرشوں اور پلوں کو سیم اور تھور کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ السی کے تنوں اور شاخوں سے ریشہ حاصل ہو تا ہے جسے دھاگے اور کپڑے کی صنعت کیلئے استعمال کیا جا تا ہے نیز السی انسانوں اور جانوروں کی سوزشی امراض کیلئے بننے والی ادویات میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔