ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے زراعت کے شعبہ میں ہونیوالی تحقیق کے فوائد عام کسانوں تک پہنچا نا ہوں گے،ماہرین زراعت

جمعہ 21 نومبر 2025 13:11

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 نومبر2025ء) ماہرین زراعت نے کہا کہ ذرخیز زمینوں اور موافق موسموں کے باعث پاکستان زرعی خود کفالت کے ساتھ مشرق وسطیٰ کو زرعی اجناس بھی برآمد کر سکتا ہے جبکہ ملکی ضروریات کو پورااور درآمد پر خرچ ہونے والا کثیر زر مبادلہ بچانے کیلئے کسانوں کو سبزیوں اور دالوں کی پیداوار پر خصوصی توجہ بھی دینی ہو گی۔

ترقی پسند کاشتکاروں کے وفد سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں ہونے والی تحقیق کے فوائد عام کسانوں تک پہنچنانے ہوں گے تاکہ وہ ملک کی غذائی ضروریات کو با آسانی پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی 60سے 70 فیصد آبادی بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت سے منسلک ہے لہٰذا ملکی ترقی اور خوشحالی زرعی شعبے کی ترقی سے وابستہ ہے۔

(جاری ہے)

انہو ں نے کہا کہ پاکستان کی ذرخیز زمین اور موافق موسموں کی بنا پر ہم زرعی خود کفالت کیساتھ مشرق وسطیٰ کو زرعی اجناس بھی برآمد کر سکتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی زرعی پالیسی کا اصل مقصد عام کسان کی خوشحالی اور ملکی زرعی ضروریات کو با آسانی پوا کرنا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ کسانوں کو سبزیوں اور دالوں کی پیداوار پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے اوردرآمد پر خرچ ہونے والے کثیر زر مبادلہ کو بچایا جا سکے جبکہ اس سے بلاشبہ ان کی قیمتوں میں توازن اور استحکام بھی ا ٓئے گا۔