محکمہ زراعت پنجاب نے آم کی گڈھیری تدارک کےلئے حکمت عملی جاری کردی

ہفتہ 20 دسمبر 2025 13:21

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 دسمبر2025ء) محکمہ زراعت پنجاب نے آم کی گڈھیری کے تدارک کےلئے حکمت عملی جاری کر دی۔ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق ملکی آم ذائقہ کے اعتبار سے عالمی منڈی میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان زیادہ آم کی پیداوار حاصل کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر اور پاکستان میں 0.142 ملین ایکڑ رقبہ آم کے باغات پر مشتمل ہے۔

ترجمان نے کہا کہ صوبہ پنجاب ملک میں آم کی مجموعی پیداوار 1.7 ملین ٹن کا 70 فیصدہے، پاکستانی آم بیرونی منڈیوں میں آتے ہی چھا جاتا اور اس کی مانگ میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔انہوں نے کہاکہ باغات کی کامیاب اور نفع بخش کاشت کاانحصار ان کی مناسب دیکھ بھال پر ہے۔ باغبان تھوڑی سی توجہ سے نہ صرف پھل کی بہتر کوالٹی بلکہ زیادہ پیداوار کے حصول کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان آم کی کل پیداوار کا صرف 5فیصدبرآمد کرتا ہے،اگر بین الاقوامی منڈیوں کی مانگ کے مطابق معیار کو بہتر بنایا جائے تو آم کی برآمدات میں اضافہ کی کافی گنجائش موجود ہے۔آم کی گدھیڑی کے بچے اور ما دہ درختو ں کی نر م شا خو ں سے اپنے منہ کی سو ئیا ں چبھو کر رس چو ستے ہیں اور جسم سے لیسدار مادہ خا رج کرتے ہیں جس کی وجہ سے پتوں پر سیاہ پھپھو ندی اگ آتی ہے۔

اس طرح عمل ضیا ئی تالیف میں رکاوٹ پیدا ہونے کی وجہ سے پودے کی خوراک کم بنتی ہے جس سے نر م شا خیں اور پھو ل خشک ہو جا تے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دسمبر میں آم کی گڈھیری کے انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے لہذاباغبان ان کی تلفی کیلئے آم کے پودوں کے گرد گوڈی کریں۔تنے کے گرد زمین کھود کر کلوربائی ری فاس (chlorbyrifos) 10 ملی لیٹر فی لیٹر پانی میں ملا کر ڈالیں تاکہ بچے انڈوں سے نکلتے ہی زہر کے اثر سے مرجائیں۔

اسی طرح آم کے پودوں کے تنوں پر1 فٹ چوڑائی کا بند لگائیں اور اس کے درمیان 1انچ اچھی کوالٹی کے گریس کا بند لگائیں تاکہ گڈھیری کے بچے اوپر نہ چڑھ سکیں اور دوسرے دن بند کے نیچے لیمڈا سائی ہیلو تھرین(Lambda-cyhalothrin)یا بائی فینتھرین(Bifenthrin)بحساب 250ملی لیٹر 100 لیٹر پانی میں ملا کر حسب ضرورت 3 دن کے تک سپرے کریں۔ اس ضمن میں کاشتکارایک ہی زہر کا بار بار استعمال نہ کریں۔