سندھ زرعی یونیورسٹی اور اسریٰ یونیورسٹی کا جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹمز (GIS) کے شعبوں میں تعاون کرنے پر اتفاق

بدھ 7 جنوری 2026 19:33

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 جنوری2026ء) سندھ زرعی یونیورسٹی، ٹنڈو جام اور اسریٰ یونیورسٹی نے صوبے کی سرکاری اور نجی جامعات کے درمیان مہارتوں اور فیکلٹی کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹمز (GIS) کے شعبوں میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس موقع پر اسریٰ یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ قاضی نے سندھ زرعی یونیورسٹی کا سرکاری دورہ کیا اور وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال سے ملاقات کی۔

ملاقات میں دونوں اداروں نے تعلیمی و تحقیقی تعاون، فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے اور ابھرتے ہوئے شعبہ جات جیسے AI اور GIS میں مشترکہ مہارتوں کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی۔

(جاری ہے)

وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ یونیورسٹی زرعی تعلیم میں جدت، ڈیجیٹل تبدیلی اور بین الاقوامی معیار کی شراکت داریوں کے ذریعے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسریٰ یونیورسٹی کے ساتھ تعاون تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مہارتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ چانسلر اسریٰ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ قاضی نے کہا کہ AI اور GIS دنیا بھر میں تعلیم، تحقیق اور صنعت میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں اور ان کا زراعت اور قدرتی وسائل کے انتظام میں استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ زرعی یونیورسٹی اور اسریٰ یونیورسٹی کے مابین تعاون سے طلبہ اور اساتذہ کو بہتر تعلیمی مواقع اور جدید تکنیکی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی۔ دونوں اداروں نے باقاعدہ مذاکرات کے ذریعے تعاون کے خدوخال حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ مجوزہ مفاہمتی یادداشت علمی تبادلے، مشترکہ تعلیمی پروگرامز اور جدید تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی، جو اعلیٰ تعلیم اور قومی ترقی کے لیے سودمند ثابت ہوگی۔ اس موقع پر اسریٰ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر میڈیا ڈاکٹر محمود الحسن مغل اور سندھ زرعی یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز افسر گل شیر لوچی بھی موجود تھے۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ قاضی نے سندھ زرعی یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز سیکشن کا بھی دورہ کیا۔