ایچ ای سی نے ڈوئل ڈگری اور جوائنٹ ڈگری پروگراموں کی نئی پالیسی کی منظوری دیدی ہے ، ڈاکٹر نیاز احمد اختر

منگل 2 جون 2026 22:42

ایچ ای سی نے ڈوئل ڈگری اور جوائنٹ ڈگری پروگراموں کی نئی پالیسی کی منظوری ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے ایچ ای سی نے ڈوئل ڈگری اور جوائنٹ ڈگری پروگراموں کی نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت پاکستانی جامعات دنیا کی ممتاز یونیورسٹیوں کے ساتھ مشترکہ تعلیمی پروگرام شروع کر سکیں گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں بیرون ملک سے معیاری ڈگری حاصل کرنا بیشتر طلبہ کے لئے ایک خواب تصور کیا جاتا تھاتاہم نئی پالیسی کے بعد طلبہ پاکستان میں رہتے ہوئے بین الاقوامی معیار کی تعلیم اور غیر ملکی جامعات کی ڈگری حاصل کرنے کے مواقع سے مستفید ہو سکیں گے۔ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ ڈگری پروگرام کے تحت ایک طالب علم بیک وقت دو جامعات کے اشتراک سے تعلیم حاصل کرے گا۔

(جاری ہے)

مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم ایک تعلیمی مدت ایک جامعہ میں اور دوسری مدت کسی دوسری جامعہ میں مکمل کرتا ہے تو اسے مشترکہ طور پر جوائنٹ ڈگری جاری کی جائے گی۔ اسی طرح پاکستانی اور غیر ملکی جامعات کے مابین اشتراک کے نتیجے میں طلبہ اپنی تعلیم کا کچھ حصہ پاکستان اور کچھ حصہ بیرون ملک مکمل کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈوئل ڈگری پروگرام میں طالب علم ایک ہی وقت میں دو مختلف جامعات میں رجسٹرڈ ہو سکے گا اور مقررہ تعلیمی تقاضے پورے کرنے کے بعد دونوں اداروں سے الگ الگ ڈگریاں حاصل کرے گا۔

اس ضمن میں انہوں نے انجینئرنگ کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ اضافی تخصیصی تعلیم کے ذریعے ایک سے زائد ڈگریاں حاصل کرنے کے قابل ہوں گے۔چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ طلبہ کے مفادات اور تعلیمی معیار کے تحفظ کے لئے سخت ضوابط وضع کئے گئے ہیں اور کوئی بھی جامعہ ایچ ای سی سے باقاعدہ این او سی حاصل کئے بغیر ایسے پروگرام شروع نہیں کر سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہر بین الاقوامی شراکت دار ادارے کی رضامندی اور ایچ ای سی کی منظوری لازمی ہوگی جبکہ معیار کو یقینی بنانے کے لئے جامع نگرانی کا نظام بھی نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی پالیسی کے تحت جامعات طلبہ پر اچانک اضافی مالی بوجھ نہیں ڈال سکیں گی اور اگر کسی وجہ سے کوئی ڈگری پروگرام بند کیا جاتا ہے تو طلبہ کے تعلیمی سال اور مستقبل کا تحفظ متعلقہ جامعہ کی ذمہ داری ہوگا۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر کے مطابق اس پالیسی سے پاکستانی جامعات کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے میں مدد ملے گی جبکہ ایسے طلبہ جو مالی یا دیگر وجوہات کی بنا پر بیرون ملک تعلیم حاصل نہیں کر سکتے انہیں بھی بین الاقوامی تعلیمی ماحول اور تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی پالیسی کے مؤثر نفاذ کے بعد یہ اقدام پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور بین الاقوامی تعلیمی روابط کے استحکام کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔