ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری سے رابطہ سڑکیں بحال نہ ہوسکیں، خوراک اور ایندھن کی قلت، بجلی منقطع

جمعرات 29 جنوری 2026 20:32

اسلام آباد /گلگت/پشاور/لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جنوری2026ء) ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کے بعد نظام زندگی شدید متاثر ہوکر رہ گیا،ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری سے رابطہ سڑکیں بحال نہ ہوسکیں، خوراک اور ایندھن کی قلت پیدا ہوگئی ۔تفصیلا کے مطابق گلگت بلتستان کے ضلع استور میں برف باری کے باعث بند رابطہ سڑکیں اب تک بحال نہیں ہوسکیں، استور کے گاؤں کا بیمار شخص ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ گیا۔

ادھر چمن، قلعہ عبداللہ اور زیارت سمیت بلوچستان کے بالائی اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں بھی نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔شدید برفباری کے باعث زمینی رابطے منقطع ہوگئے، توبہ اچکزئی اور توبہ کاکڑی سمیت درجنوں دیہات کے لوگ گھروں میں محصور ہوگئے۔

(جاری ہے)

راستوں کی بندش کے باعث خوراک اور ایندھن کی قلت پیداہوگئی۔ کنٹرول روم حکام کے مطابق بعض علاقوں میں ریلیف کے لیے ہیلی کاپٹر ہی واحد ذریعہ ہے۔

آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں برف باری کا سلسلہ تھم گیا تاہم نیلم میں مرکزی شاہراہ برفانی تودہ گرنے کے باعث تاوبٹ تک بند ہے، نکیال کے 13 دیہاتوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔سوات کے بالائی علاقوں میں بند رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام جاری دن بھر رہا دوسری جانب محکمہ موسمیات نے شمالی علاقوں اور شمالی بلوچستان میں بارش اور برف باری کی پیشگوئی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمزور مغربی ہوائوں کا سلسلہ 30 جنوری کو ملک میں داخل ہوگا، مغربی ہواؤں کا سلسلہ 3 فروری تک تک برقرار رہے گا۔محکمہ موسمیات کے مطابق 31 جنوری سے 3 فروری تک گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں بارش متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق پہاڑی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی برف باری کا بھی امکان ہے، ایک سے 3 فروری کے دوران اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، سیالکوٹ، نارووال میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق مری، گلیات اور ملحقہ علاقوں میں ہلکی بارش اور برف باری کا امکان ہے، 31 جنوری اور یکم فروری کو بلوچستان کے شمالی علاقوں میں بارش اور برف باری کی توقع ہے۔