اسد محمود کی پشاور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل

جمعرات 26 فروری 2026 16:49

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 فروری2026ء) 2024 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 43 (ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان)سے امیدوار اسد محمود نے حلقے کے انتخابی نتائج بارےپشاور ہائی کورٹ، ڈی آئی خان بینچ کے یکم دسمبر 2025 کے فیصلے کے خلاف باقاعدہ انتخابی اپیل دائر کر دی ہے۔ یہ اپیل سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر کی وساطت سے دائر کی گئی ہے۔

الیکشن ٹربیونل نے اپیل کنندہ کی درخواست نمبر 05-D/2024 کو خارج کرتے ہوئے جزوی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا تھا، جس میں پورے حلقے کی دوبارہ گنتی نہیں کی گئی تھی۔ اسد محمود کے مطابق، 8 فروری 2024 کو ہونے والے پولنگ میں انہوں نے 64,020 ووٹ حاصل کیے جبکہ کامیاب امیدوار نے 64,575 ووٹ حاصل کیے، یعنی صرف 555 ووٹوں کا فرق تھا۔

(جاری ہے)

اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اتنے کم مارجن میں الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 95(5) کے تحت پورے حلقے کی دوبارہ گنتی لازمی تھی، مگر ریٹرننگ افسر نے صرف محدود پولنگ اسٹیشنز کی گنتی کرائی۔

مزید برآں اپیل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جزوی دوبارہ گنتی کے دوران متعدد پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ پیپرز غائب ہو گئے، جن میں پولنگ اسٹیشن نمبر 24، 152 اور 307 شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 127 بیلٹ پیپرز اپیل کنندہ کے اور 307 بیلٹ پیپرز کامیاب امیدوار کے متعلق غائب پائے گئے۔ ساتھ ہی مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد 5,117 بتائی گئی جو انتخابی نتیجے کے مقابلے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال میں مکمل جانچ اور فرانزک معائنہ ناگزیر تھا۔درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بیلٹ پیپرز عوامی مینڈیٹ کا اصل ثبوت ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق فارم 45، 47 اور 49 ثانوی نوعیت کی دستاویزات ہیں۔ ریٹرننگ افسر کی جانب سے دی گئی وضاحت کہ بیلٹ پیپرز دیگر تھیلوں میں رکھے گئے تھے اور سیل شدہ مواد کو مجاز افسران کے ساتھ کھولا گیا، عدالت کے بغیر قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

اسد محمود نے کامیاب امیدوار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کو بھی چیلنج کیا ہے، مؤقف اختیار کیا ہے کہ اثاثوں، واجبات اور انتخابی اخراجات کے بارے میں مکمل اور درست معلومات نہیں فراہم کی گئیں جو الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 60، 62 اور 63 کی خلاف ورزی ہے۔ اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن ٹربیونل کا یکم دسمبر 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور پورے حلقے کی دوبارہ گنتی، انتخابی مواد کی مکمل جانچ اور دیگر مناسب ریلیف فراہم کیا جائے۔