سابق چیف جسٹس کیخلاف فتویٰ کے کیس میںمولانا طاہر سیفی کو 32 سال قید ،7لاکھ جرمانے کی سزا

دوسرے مجرم ریاض کو 36 سال قید ،ساڑھے 6 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ،انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ

پیر 2 مارچ 2026 21:25

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 مارچ2026ء) انسدا ددہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف فتوی جاری کرنے کا معاملہ پر دو مجرموں کو مجموعی طور پر 68 سال قید کی سزا سنا دی ۔انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج شاہد سکندر نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کالعدم ٹی ایل پی کے مولانا طاہر سیفی کو مجموعی طور پر 32 سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ ان پر 7 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

مولانا طاہر سیفی کے خلاف شیخوپورہ کے تھانہ اے ڈویژن میں اشتعال انگیز تقریر اور فتوی دینے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج تھا۔اسی نوعیت کے ایک دوسرے مقدمے میں عدالت نے دوسرے مجرم ریاض کو مجموعی طور پر 36 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ مجرم ریاض پر ساڑھے 6 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ مجرم ریاض کے خلاف ضلع قصور کے تھانہ چھانگا مانگا میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔دونوں مجرموں کو سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے، دھمکیاں دینے اور عوام کو اکسانے کے الزامات ثابت ہونے پر سزائیں سنائی گئیں۔