بہاریہ مکئی کے نقصان دہ کیڑوں کابروقت انسداد نہ کیا جائے تو پیداوار میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے،ڈاکٹر مقصود احمد
ہفتہ 14 مارچ 2026 20:53
(جاری ہے)
اس کی مادہ پتوں کی نچلی سطح پر انڈے دیتی ہے جو پیلے رنگ کے ہوتے ہیں اور گچھوں کی شکل میں دیے جاتے ہیں۔
ایک مادہ اپنی زندگی کے دوران 2سے 12دن میں 300سے زائد انڈے دیتی ہے جن سے4یا 5 دن میں سنڈیاں نکل آتی ہیں۔ سنڈی پورے قد کی ہونے تک 6 حالتو ں سے گزرتی ہے۔ سنڈی کی حالت 14سے 28دن ہوتی ہے۔ پھر کویا کی حالت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کویا عموماًتنے میں سوراخ کر کے بناتی ہے۔ کوئے سے 3ہفتوں کے بعد پروانے نکل آتے ہیں۔ یہ سنڈی مکئی کی فصل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ بعض صورتوں میں جب سنڈی کا حملہ زیادہ ہو تو فصل بالکل ہی تباہ ہوجاتی ہے ا س سنڈی کا حملہ اس وقت شروع ہوتاہے جب فصل تقریباً 4انچ کے قریب اونچی ہوتی ہے سنڈی تنے میں داخل ہو کر اس کی کونپل کو کاٹ دیتی ہے جس سے کونپل سوکھ جاتی ہے اس طرح پودے کی بڑھوتری رک جاتی ہے بعض اوقات یہ سنڈی مکئی کے نر حصہ پر بھی حملہ آور ہوتی ہے اور چھلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ بہاریہ مکئی پرسنڈی کا حملہ مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں ہوتاہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں۔متاثرہ پودوں کو کھیتوں سے نکال کر چارہ کے طور پر استعمال کریں۔ برداشت کے بعد متاثرہ فصل کے بچے کھچے حصوں کو روٹا ویٹ کر دیں۔رات کو روشنی کے پھندے لگا کر پروانے تلف کریں۔فصلوں کا مناسب ہیر پھیر کریں۔فصل کی برداشت کے بعد مڈھوں کو کھیت سے نکال کر زمین میں دبا دیں۔فصل میں موجود جڑی بوٹیوں کا بر وقت تدارک کریں ،سست تیلاموسم بہار میں کونپل کی مکھی کے فوراًبعد حملہ کرتاہے۔ شدید حملہ کی صورت میں فصل کو کافی نقصان پہنچتاہے۔ سست تیلاپتوں کا رس چوستاہے جس سے پتوں پر سفید نشان بن جاتے ہیں اور پتے آہستہ آہستہ سوکھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں اوپر والے چند پتوں کے علاوہ باقی سب پتے سوکھ جاتے ہیں اور پیداوار میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ چست تیلہ چھلیاں بننے سے کچھ عرصہ قبل حملہ آور ہوتاہے اور پتوں کا رس چوستاہے۔چست تیلا کا حملہ عموماًاوپر والے پتوں اور نر حصہ پر زیادہ ہوتاہے۔ شدید حملہ کی صورت میں فصل کی عمل زیرگی میں خاصی کمی واقع ہوجاتی ہے جس سے پیداوار بھی متا ثر ہو تی ہے۔تیلے کے حملہ سے بچاؤ کے لیے محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے سپرے کریں۔ لشکری سنڈی تمباکو، برسیم اور کپاس کی موذی دشمن ہے لیکن گزشتہ چند سالوں سے اس کا حملہ مکئی پر بھی بڑھ رہا ہے۔ اس کیڑے کی سنڈیاں بڑی تعداد میں فصل پر حملہ آور ہوتی ہیں اور پودوں کے پتے بھیڑوں کی طرح کا ٹ کر کھاجاتی ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں یہ سنڈیاں پتوں کو چٹ کر جاتی ہیں اور صرف تنا باقی رہ جاتاہے۔ بعض اوقات لشکری سنڈی بھٹے کے بالوں کو بھی کاٹ دیتی ہے اور چھلی میں داخل ہو کر دانوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ شدید حملہ کی صورت میں پیدا وار میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ لشکری سنڈی کے انسداد کے لیے محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے سپرے کریں اور زہر پاشی کے بعد فصل کو پانی لگائیں۔مزید زراعت کی خبریں
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کاوشیں رنگ لے آئیں، پنجاب 10 لاکھ مویشی برآمد کرے گا
-
محکمہ زراعت پنجاب کی آم کے تیلے کے انسداد بارے سفارشات جاری
-
گنے کے کاشتکاروں کو ادائیگیوں میں تاخیر، کین کمشنر کے ادائیگیوں کی یقین دہانی پر درخواست نمٹا دی گئی
-
پشاور، احساس فیول سپورٹ پروگرام میں 14 لاکھ کسان رجسٹرڈ
-
نوے فیصد زرعی زمین نائٹروجن کی کمی کا شکار ہے،زرعی ماہرین
-
پنجاب میں20 ہزار گرین ٹریکٹرز تقسیم، مزید 10 ہزار کی فراہمی شروع
-
پنجاب کے میدانی علاقوں میں ادرک کی کاشت مارچ میں مکمل کرنے کی ہدایت
-
زرعی شعبے میں خواتین کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے فاطمہ فرٹیلائزر نے عالمی یومِ خواتین پر“سرسبز تعبیر: سیڈز آف چینج”مہم کا آغاز کر دیا
-
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کھمبی کی پیداوار 15لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی
-
آلو کے کاشتکاروں کیلئے خوشخبری، 5 لاکھ ٹن سے زائد ایکسپورٹ کے آرڈرز مل گئے
-
موسمی دباؤ میں اضافہ، آم کی صنعت خطرے میں،ماہرین کا مربوط حکمتِ عملی اپنانے پر زور
-
آم کے بور کی مکھی پھل کو بری طرح متاثر کرتی ہے، محکمہ زراعت سمبڑیال
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.