سندھ زرعی یونیورسٹی میں ریسرچ ورکشاپ اختتام پذیر

جمعرات 16 اپریل 2026 18:15

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اپریل2026ء) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں “تیسرا انٹومولوجیکل سوسائٹی آف سندھ – اسٹیٹکٹس اینڈ ریسرچ جرنی” اختتام پذیر ہوگئی، جس میں طلبہ، محققین اور ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو تحقیق کی منصوبہ بندی، عملدرآمد، تجزیہ اور نتائج کی مؤثر پیشکش سے متعلق مہارتیں فراہم کرنا تھا۔

یہ ورکشاپ اینٹومولوجیکل سوسائٹی آف سندھ اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (او آر آئی سی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس میں تجرباتی ترتیب، شماریاتی طریقہ کار جیسے اے این او وی اے، ٹی ٹیسٹ، باہمی تعلق، ریگریشن اور کائی اسکوائر کے علاوہ ڈیٹا کی مؤثر پیشکش کے جدید طریقوں پر تفصیلی سیشنز ہوئے۔

(جاری ہے)

اختتامی تقریب میں وائس چانسلر انجینئر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے جدید تحقیق میں ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تفصیلی، جزوی اور مکانی ڈیٹا کے استعمال کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے سائنسی تحقیق میں جغرافیائی معلوماتی نظام کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ درست اور منظم ڈیٹا ہی مؤثر نتائج کی بنیاد ہوتا ہے، جبکہ اس نوعیت کی تربیتی سرگرمیاں طلبہ اور محققین کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہیں۔

اس موقع پر ورکشاپ کے فوکل پرسن ڈاکٹر عرفان احمد گیلانی اور ڈاکٹر بھائی خان سولنگی نے بھی خطاب کیا اور شرکاء کو تحقیق میں سائنسی طریقہ کار اپنانے کی تلقین کی۔ تقریب میں ڈاکٹر امتیاز نظامانی اور ڈاکٹر محمد ابراہیم خاصخیلی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ اختتام پر وائس چانسلر نے سندھ زرعی یونیورسٹی، زرعی تحقیقاتی اداروں اور نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر سے تعلق رکھنے والے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں اور ان کی تحقیقی سرگرمیوں میں دلچسپی کو سراہا۔

متعلقہ عنوان :