پی ایم ڈی سی طلبا کے معاملے کو قانون اور ریگولیشنز کے مطابق جائزہ لے

داخلہ کے معاملے پر مقدمہ آئینی عدالت نے پی ایم ڈی سی کو بھیج دیا

جمعرات 16 اپریل 2026 19:24

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 اپریل2026ء) وفاقی آئینی عدالت نے پی ایم ڈی سی اجازت کے بغیر میڈیکل طلباء کے داخلے کے مقدمے میں طلبا کا معاملہ پی ایم ڈی سی کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ پی ایم ڈی سی طلبا کے معاملے کو قانون اور ریگولیشنز کے مطابق جائزہ لے۔ جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاکہ عدالت صرف قانون اور ریگولیشنز کو دیکھے گی۔

ڈائریکشن دے دیتے ہیں طلبا کالجز کے خلاف ہرجانہ دائر کریں۔کہ60 فیصد سے کم نمبرز والے طلبا کو کیسے میڈیکل میں داخلے ملی ۔عدالت کو قانون میں نرمی کا اختیار نہیں ہے۔انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی وکیل طلبا نے کہاکہ کالجز نے طلبا کو حکم امتناع کی بنیاد پر داخلے دئیے ۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ60 فیصد سے کم نمبرز والے طلبا کو کیسے میڈیکل میں داخلے ملی وکیل طلبا نے کہاکہ آج بھی سندھ میں بی ڈی ایس میں طلبا کو داخلے مل رہے ہیں وکیل پی ایم ڈی سی نے کہا کہ میڈیکل کالجز نے ہائیکورٹ سے حکم امتناع لے رکھا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت صرف قانون اور ریگولیشنز کو دیکھے گی ڈائریکشن دے دیتے ہیں طلبا کالجز کے خلاف ہرجانہ دائر کریں۔

عدالت کو قانون میں نرمی کا اختیار نہیں ہے وکیل پی ایم ڈی سی جہانگیر جدون نے کہاکہ عدالت چاہے تو معاملہ پی ایم ڈی سی کو بھجوا سکتی ہے۔پی ایم ڈی سی کے پاس رولز میں نرمی کا اختیار ہے۔میڈیکل کالجز کے سارے مسائل سندھہ میں آرہے ہیں۔عدالت نے تی ایم ڈی سی تین ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 13 مئی تک ملتوی کردی۔