سندھ زرعی یونیورسٹی کے بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز کا اجلاس

ہفتہ 18 اپریل 2026 17:04

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اپریل2026ء) وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال کی زیر صدارت سندھ زرعی یونیورسٹی کے بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (بی اے ایس آر) کا 180واں اجلاس منعقد ہوا۔ہفتہ کو منعقدہ اجلاس کا آغاز 3 مارچ 2026 کو ہونے والے 179ویں بی اےایس آر اجلاس کی کارروائی کی منظوری اور اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی رپورٹ کی توثیق سے کیا گیا۔

اس کے بعد بورڈ نے مختلف تعلیمی و تحقیقی امور کا تفصیلی جائزہ لیا، جن میں پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس، ایگریکلچر، اینیمل نیوٹریشن، اینٹامولوجی اور ویٹرنری فزیالوجی اینڈ بایوکیمسٹری کے شعبہ جات میں پی ایچ ڈی مقالہ جات پر غیر ملکی ماہرین کی رپورٹس شامل تھیں۔اجلاس کے دوران بورڈ نے تعلیمی معیار اور تحقیق کی کامیاب تکمیل کے بعد تین پی ایچ ڈی اسکالرز کی ڈگریوں کی منظوری دی۔

(جاری ہے)

ڈگری حاصل کرنے والوں میں شعبہ اینٹامولوجی کی مس نرگس لودھی، انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مسٹر عمیر کھتری اور شعبہ اینیمل پروڈکٹس ٹیکنالوجی کے مسٹر رشید علی کوريجو شامل ہیں۔بورڈ نے ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ کی جانب سے تحقیقی مدت میں توسیع کی درخواستوں پر بھی غور کیا اور قواعد و ضوابط کے مطابق متعدد کیسز کی منظوری دی۔

اس کے علاوہ سپروائزری کمیٹیوں میں تبدیلی، نئے سپروائزرز و کو سپروائزرز کی منظوری اور مختلف پوسٹ گریجویٹ تحقیقی سائنپسز کی منظوری بھی دی گئی۔اس موقع پر وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں تحقیق کا معیار بہتر بنانا، بین الاقوامی سطح کے معیار کے مطابق پی ایچ ڈی تحقیق کو یقینی بنانا اور زرعی شعبے کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ گریجویٹس تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اساتذہ اور سپروائزرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کی رہنمائی میں مزید بہتری لائیں تاکہ معیاری تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ زرعی تحقیق ہی ملک کی غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، لہٰذا تمام شعبہ جات کو اپنی تحقیق کو عملی مسائل کے حل سے جوڑنا چاہیے۔اجلاس میں ڈینز ڈاکٹر عنایت اللہ راجپر، ڈاکٹر سید غیاث الدین شاہ راشدی، ڈاکٹر اعجاز علی کھوہارو، ڈاکٹر منیر احمد منگریو، ڈین کراپ پروٹیکشن فیکلٹی اور ایڈوائز ایڈوانسڈ اسٹڈیز ڈاکٹر عبدالمبین لودھی اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :