سیبس یونیورسٹی میں تمباکو سے پاک شہروں کے موضوع پر آغا خان یونیورسٹی کے اشتراک سے سیمینار کا انعقاد

بدھ 22 اپریل 2026 21:27

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 اپریل2026ء) شہید اللہ بخش سومرو (سيبس) یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیجز، جامشورو کی اینٹی ڈرگز اینڈ ٹوبیکو کمیٹی نے آغا خان یونیورسٹی کے اشتراک سے “تمباکو اسموک فری شہر: بنگلہ دیش، پاکستان اور ویتنام میں تحقیق” کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد کیا۔ سیمینار کا مقصد مشترکہ مشاورت کے ذریعے مؤثر حکمتِ عملیاں تیار کرنا تھا تاکہ جامعات کے کیمپسز میں اسموک فری قوانین کے نفاذ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور پاکستان میں تمباکو سے پاک شہروں کے وسیع تر وژن کو تقویت دی جا سکے۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل انویسٹی گیٹر پروفیسر ڈاکٹر رومینہ اقبال نے بتایا کہ یہ تحقیقی تین ممالک بنگلہ دیش، پاکستان اور ویتنام میں جاری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کراچی اور جامشورو کی سات جامعات سے تفصيلات جمع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمباکو کا استعمال، بشمول سیکنڈ ہینڈ اسموک، اب بھی عوامی صحت کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیق کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں اسموک فری پالیسیوں کے نفاذ کا جائزہ لیا جائے گا۔ سینئر انسٹرکٹر صباحت ناز نے سیبس یونیورسٹی میں مکمل کیے گئے پہلے مرحلے کے نتائج پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے اسموک فری زونز، موجودہ قواعد و ضوابط، اینٹی ڈرگز کمیٹی کے کردار اور دیگر سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔

ریسرچ اسپیشلسٹ غزالا اخلاق اور فیلڈ سپروائزر شیخ کنول نے بھی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جاری تحقیق کے حوالے سے اپنی آراء اور مشاہدات پیش کیے۔ اینٹی ڈرگز اینڈ ٹوبیکو کمیٹی کے کنوینر فضل الٰہی خان نے سیبس یونیورسٹی میں اسموک فری کیمپس کے قیام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کمیٹی کے قیام، مختلف اجلاسوں اور طلبہ، اساتذہ اور عملے کی جانب سے ملنے والے مثبت ردِعمل پر روشنی ڈالی۔ سیمینار میں طلبہ، اساتذہ اور عملے کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو ایک صحت مند اور تمباکو سے پاک ماحول کے فروغ کے لیے ادارے کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتی ہے۔