خیبرپختونخوا اسمبلی، وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن برہم، وزیرستان میں جنگلات کی کٹائی اور خواتین کی خودمختاری کے معاملات کمیٹیوں کو منتقل

منگل 28 اپریل 2026 19:26

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 اپریل2026ء) خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس منگل کے روز پریزائیڈنگ افسر محمد اسرار کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد وقفہ سوالات کے دوران وزیر صحت کی عدم موجودگی پر ان کے محکمے سے متعلق تمام سوالات مؤخر کر دیے گئے۔اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے حکومت کی کارکردگی اور وزراء کی عدم دلچسپی پر سخت تنقید کی۔

پیپلز پارٹی کے رکن آصف خان نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے وزیرستان میں درختوں کی بے دریغ کٹائی کا معاملہ اٹھایا، جس پر پی پی کے ہی رکن احمد کنڈی نے کہا کہ اپوزیشن کا کام حکومت کو جوابدہ بنانا ہے، مگر حکومتی سنجیدگی میں واضح کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے مگر جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جبکہ دنیا کاربن کریڈٹ کی طرف بڑھ رہی ہے اور حکومت اس معاملے پر غفلت کا شکار ہے۔

(جاری ہے)

احمد کنڈی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے متعدد وزارتیں اپنے پاس رکھنے سے بیوروکریسی مضبوط ہو رہی ہے اور سیاسی نمائندوں کا کردار کمزور پڑ رہا ہے، جس سے گورننس متاثر ہو رہی ہے۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع، خصوصاً وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے جنگلات کی اقسام کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ جنگلات سرکاری، کچھ کمیونٹی جبکہ کچھ نجی ملکیت میں آتے ہیں، اور وزیرستان میں زیادہ تر جنگلات نجی ملکیت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بعض اوقات درختوں کی کٹائی ہوتی ہے، تاہم یہ عمل قابلِ حوصلہ افزائی نہیں۔آصف خان نے جواباً کہا کہ وزیرستان کو ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سے کنٹرول کیا جا رہا ہے، جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، سکولوں میں اساتذہ نہیں، سڑکیں خستہ حال ہیں اور جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ کہاں ہے، جبکہ 2004 سے جاری آپریشنز کے متاثرین کو تاحال مکمل معاوضے اور این ایف سی شیئر بھی نہیں مل سکا۔

ن لیگ کے رکن سردار شاہجہان نے تجویز دی کہ حکومت درختوں کی کٹائی روکنے کے لیے جامع پالیسی بنائے اور مقامی آبادی کو متبادل سہولیات، جیسے گیس اور ایل پی جی، فراہم کی جائیں تاکہ جنگلات پر دباؤ کم ہو۔بحث کے بعد پریزائیڈنگ افسر نے معاملہ متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔اجلاس میں خواتین کی خودمختاری کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔

رکن اسمبلی اشبر جدون نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے نشاندہی کی کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود خواتین کی عملی بااختیاری میں خلا موجود ہے۔ انہوں نے سکلز ڈویلپمنٹ پروگرامز اور ٹریننگ سینٹرز سے متعلق واضح پالیسی طلب کی۔وزیر قانون نے بتایا کہ یہ معاملہ پہلے ہی کمیٹی کے سپرد کیا جا چکا ہے، تاہم رکن اسمبلی نے شکایت کی کہ اس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ جس پر پریزائیڈنگ افسر نے متعلقہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ معاملے کو جلد از جلد زیر غور لایا جائے۔