پی ایف ایف وفد کی کینیڈا کے شہر وینکوور میں اے ایف سی کانگریس میں شرکت کے بعد اعلی سطح کی ملاقاتیں

بدھ 29 اپریل 2026 22:32

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اپریل2026ء) پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے وفد نے صدر سید محسن گیلانی کی سربراہی میں کینیڈا کے شہر وینکوور میں 36ویں اے ایف سی کانگریس میں شرکت کے بعد اعلی سطح کی ملاقاتیں کیں، جس کا مقصد عالمی فٹ بال برادری کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔جمعرات کو شیڈول 76ویں فیفا کانگریس کے سلسلے میں کینیڈا میں موجود پی ایف ایف کے وفد، جس میں صدر محسن گیلانی، نائب صدر حافظ ذکا اللہ اور چیف آپریٹنگ آفیسر شاہد نیاز کھوکھر شامل ہیں، نے جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر برنڈ نیوینڈورف، کینیڈا ساکر کے صدر پیٹر اوگروسو، چائنیز فٹ بال فیڈریشن کے صدر سونگ کائی اور تاجکستان فٹ بال فیڈریشن کے نائب صدر جلیل اوف سکندر سے ملاقاتیں کیں۔

جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن نے کوچز کی تربیت اور ویمنز فٹ بال سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کو مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے۔

(جاری ہے)

صدر ڈی ایف بی نے پاکستانی کھلاڑیوں اور کوچز کو جرمنی کے اعلی پائے کے فٹ بال ایکو سسٹم سے سیکھنے کے لیے دورہ جرمنی کی دعوت بھی دی ہے۔کینیڈا ساکر کے صدر سے ملاقات کے دوران، پی ایف ایف صدر نے فیفا کانگریس کے دوران کینیڈا کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔

کینیڈا کے مضبوط فٹ بال ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے، گراس روٹ فٹ بال اور کوچ ایجوکیشن کورسز پر تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک نمائشی سیریز کے انعقاد پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں پی ایف ایف نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو متحرک کرنے میں اپنے تعاون کی پیشکش کی۔چائنیز فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ نے پاک چین سفارتی تعلقات کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کو 'آئرن برادرز' قرار دیا۔

سی ایف اے نے پاکستان کو فوتسال کی تربیت میں تعاون کی پیشکش کی، جبکہ پی ایف ایف نے مسٹر کائی کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔ دونوں فیڈریشنز نے ورلڈ کپ کے بعد ایک تفصیلی ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔تاجکستان فٹ بال فیڈریشن نے پاکستانی ریفریز کی تربیت اور گول کیپرز کی کوچنگ میں معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ملاقات میں خواتین کے فٹ بال کی ترقی کے لیے باہمی تعاون پر بھی بات چیت کی گئی۔گزشتہ روز ہونے والی یہ ملاقاتیں پی ایف ایف وفد کے کینیڈا میں طے شدہ تفصیلی پروگرام کا حصہ تھیں، جہاں وفد مزید کئی ممالک کی فیڈریشنز کے حکام سے ملاقاتیں کرے گا تاکہ پاکستان میں فٹ بال کی ترقی کے راستے تلاش کیے جا سکیں۔