دودھ کی ویلیو ایڈیشن سے معاشی ثمرات لائیو سٹاک فارمرز تک پہنچانا ضروری ہے،ڈاکٹر تنویر احمد

جمعرات 30 اپریل 2026 13:56

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 اپریل2026ء) ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سیالکوٹ ڈاکٹر تنویر احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیری فارمنگ اور لائیو سٹاک سیکٹر کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں جن سے استفادہ کرتے ہوئے بہترین جانور پالے جا سکتے ہیں۔انہوں نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے لیکن ابھی تک ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کی وجہ سے اس بھر پور پیداوار کو منافع بخش سرمایہ کاری میں منتقل کرنے اور اس کے معاشی ثمرات لائیو سٹاک فارمرز تک پہنچانے میں مکمل کامیابی نہیں ہو سکی۔

انہوں نے ویلیو ایڈیشن کے ساتھ ساتھ جانوروں کی صحت اور خوراک کے مسائل کے حل کےلئے بھی نئی جدتیں اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی لائیو سٹاک مارکیٹ میں بہتر منصوبہ بندی سے ملک کے مویشی پال کسانوں کی غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے لائیوسٹاک فارمرز کو ہدایت کی کہ وہ گائے بھینسوں کو جنسی بیماریوں سے بچانے کےلئے ان کا بروقت تشخیصی معائنہ کروائیں اور ان کی نسل کشی کےلئے ماہرین لائیوسٹاک کے مشوروں پر عمل درآمد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ گائے بھینسوں میں زیادہ پیداواری صلاحیت اور بہتر نسل کا تعین معیاری اوصاف کے حامل سانڈ بیل کے انتخاب سے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان ٹیکوں کے استعمال کے بعد ان کا خول محفوظ رکھا جائے تاکہ بچھڑے یا بچھڑی کے نسب و نسل کا درست تعین کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سانڈ بیل کے انتخاب میں جسمانی صحت، ظاہری شکل و صورت، ماں کے دودھ کی کم از کم پیداوار 2700 لیٹر فی بیانت یا اس سے زیادہ کے حساب سے کی جائے نیز بھینسوں اور گائیوں کی کارکردگی اور دودھ کی پیداوار کا باقاعدہ ریکارڈ بھی رکھا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں محکمہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ کی فری ہیلپ لائن پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔