خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن حملوں میں اضافہ ہوا ہے ، اقوام متحدہ رپورٹ

جمعہ 1 مئی 2026 09:32

اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 مئی2026ء) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سال 2020 کے بعد سے خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ شرح دوگنا ہو چکی ہے۔ یہ انکشاف اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یواین وومن اور دیگر شراکت دار اداروں کی ایک تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے جو 3 مئی کو منائے جانے والے "ورلڈ پریس فریڈم ڈے "سے قبل جاری کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے دور میں آن لائن ہراسانی زیادہ پیچیدہ اور نقصان دہ شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں خواتین صحافیوں کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے اور بڑی تعداد میں وہ خود سنسرشپ پر مجبور ہیں۔عالمی سروے میں 119 ممالک سے 641 افراد کی رائے شامل کی گئی جس کے مطابق 12 فیصد خواتین کو نجی تصاویر کے غیر مجاز پھیلاؤ، 6 فیصد کو ڈیپ فیک تصاویر اور ہر تین میں سے ایک کو جنسی ہراسانی کا سامنا ہوا۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 41 فیصد خواتین سوشل میڈیا پر خود کو محدود کرتی ہیں جبکہ خواتین صحافیوں میں یہ شرح 45 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مزید یہ کہ تقریباً ایک چوتھائی خواتین کو ڈپریشن یا ذہنی دباؤ کی تشخیص ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ نے رکن ممالک اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ آن لائن تشدد کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔