کرناٹک، طالبات کے حجاب پرپابندی کے خاتمے کا خیرمقدم، مذہبی آزادی کی جانب مثبت قدم قرار

جمعہ 15 مئی 2026 14:10

نئی دلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 مئی2026ء) ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس اور جماعت اسلامی ہند نے کرناٹک حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پر عائد پابندی ختم کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی اور تعلیمی حقوق کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ پابندی فروری 2022 میں ہندوتوا بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے دور میں نافذ کی گئی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

(جاری ہے)

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس ایک بیان میں کہاہے کہ تنظیم ہمیشہ جمہوری مکالمے، شہری حقوق کے تحفظ اور پسماندہ طبقات کو قانونی و مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے سرگرم رہی ہے۔ تنظیم نے حجاب پر پابندی سے متاثرہونے والی طالبات کی بھی مدد کی تھی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ اقدام ان تمام طلبہ کے وقار کی بحالی ہے جو اپنی تعلیم جاری رکھتے ہوئے اپنے مذہبی عقائد اور طرزِ عمل پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔دوسری جانب جماعت اسلامی ہند نے اس فیصلے کو مذہبی آزادی، شمولیت اور تعلیم کے بنیادی حق کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مسلم طالبات کو درپیش رکاوٹیں کم ہوں گی اور آئینی حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

متعلقہ عنوان :