جہانگیر ترین کی جانب سے گورنمنٹ کوئین میری گریجویٹ کالج لاہور میں جدید کمپیوٹر لیب کا افتتاح

کوئین میری گریجویٹ کالج کی طرز پر اس سے منسلک اسکول کے لیے بھی جدید کمپیوٹر لیب قائم کرنے کا اعلان

جمعرات 4 جون 2026 18:05

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 جون2026ء) جہانگیر خان ترین نے گورنمنٹ کوئین میری گریجویٹ کالج لاہور میں ترین ایجوکیشن فائونڈیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ ایک کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کی گئی اس جدید لیب کا مقصد طالبات کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہانگیر خان ترین نے کہا کہ نوجوان نسل کا مستقبل جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے، اسی لیے تعلیم ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترین ایجوکیشن فانڈیشن کے ذریعے کم آمدن والے طبقات تک تعلیمی وسائل اور معیاری مواقع پہنچانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صاحبِ حیثیت اور مخیر افراد کو بھی تعلیم کے شعبے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس سے معاشرے میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا قبیلہ بلوچستان سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ملتان میں آباد ہوا۔ اسی نسبت سے انہوں نے بلوچستان کے ضلع پشین میں طلبہ و طالبات کے لیے ایک معیاری تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر تقریبا ایک ارب روپے خرچ کیے جائیں گے تاکہ علاقے کے نوجوانوں کو بہترین تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں۔جہانگیر خان ترین نے گورنمنٹ کوئین میری گریجویٹ کالج کی طرز پر اس سے منسلک اسکول کے لیے بھی جدید کمپیوٹر لیب قائم کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ بچیوں کو شوق اور دلچسپی سے تعلیم حاصل کرتے دیکھتے ہیں تو یہ ان کے لیے بے حد خوشی اور اطمینان کا باعث بنتا ہے۔اس موقع پر جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کے گروپ ڈائریکٹر فنانس محمد رفیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر خان ترین کی توجہ کا مرکز اب تعلیم کا شعبہ ہے۔ ترین ایجوکیشن فانڈیشن 2010 میں قائم کی گئی اور اس سے قبل بھی جہانگیر خان ترین نے لودھراں میں سیوریج سمیت متعدد سماجی بہبود کے منصوبوں پر نمایاں کام کیا۔

محمد رفیق نے بتایا کہ ترین ایجوکیشن فائونڈیشن اس وقت 225سے زائد تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لودھراں میں اڑھائی ارب روپے کی لاگت سے ترین انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشن اینڈ ریسورس سینٹر بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں تقریباً 2کروڑ 80لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور انہیں تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اکبر خان نے کہا کہ جہانگیر خان ترین بالخصوص طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور ترین ایجوکیشن فائونڈیشن کے تحت اب تک اربوں روپے کے تعلیمی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔گورنمنٹ کوئین میری گریجویٹ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سدرہ عامر نے اپنے خطاب میں جہانگیر خان ترین اور ترین ایجوکیشن فائونڈیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کے لیے ایک بڑی اور تاریخی معاونت ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائم کی گئی کمپیوٹر لیب عالمی معیار کی سہولیات سے آراستہ ہے جو طالبات کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو مزید روشن بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔تقریب میں جہانگیر خان ترین کے نواسے حسین شاہ، اساتذہ، طالبات، تعلیمی ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی اور جدید کمپیوٹر لیب کے قیام کو طالبات کے لیے ایک اہم اور خوش آئند اقدام قرار دیا۔