ّجوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما کی ویڈیو پر تنازع، تعلیمی بائیکاٹ سے متعلق بیانات پر تنقید

بدھ 10 جون 2026 22:43

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 جون2026ء) سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے بعد آزاد کشمیر کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک رہنما سے منسوب بیان پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ویڈیو میں عوام کو اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے متنازع خیالات پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے بیانات درست ہیں تو یہ نوجوان نسل کی تعلیم اور مستقبل کے حوالے سے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

مختلف مبصرین نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم سے دوری کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور نوجوانوں کو تعلیمی مواقع سے محروم کرنے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

(جاری ہے)

ماہرینِ تعلیم اور سماجی مبصرین کے مطابق نوجوانوں کی تعلیم اور فنی تربیت معاشرتی ترقی اور استحکام کیلئے ناگزیر ہے، اس لیے ایسے بیانات یا اقدامات جو تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کریں، ان کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے آنے کا انتظار ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ متنازع ویڈیوز اور بیانات کے تناظر میں تمام فریقین کے مؤقف کو سامنے لانا ضروری ہے تاکہ حقائق کی مکمل تصویر عوام تک پہنچائی جا سکے۔