عدالت نے امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈ کے اغوا میں ملوث طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا سنا دی
بدھ 10 جون 2026 21:15
(جاری ہے)
مین ہیٹن کی وفاقی ضلعی عدالت کی جج کیتھرین پولک فائیلا نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ نجیب اللہ کے اقدامات میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی حمایت اور انہیں ممکن بنانا شامل تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے یرغمال بنانے کی کارروائی ’’سنگ دلانہ سفاکی‘‘ اور ’’نفسیاتی تشدد‘‘ کے ساتھ انجام دی۔استغاثہ نے عدالت سے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عام شہریوں کو یرغمال بنانا انتہائی مذموم اور اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول جرم ہے۔پراسیکیوٹرز نے یہ بھی کہا کہ نجیب اللہ 2008 میں اپنے ماتحت جنگجوؤں کے اُس حملے کا بھی ذمہ دار ہے جس میں تین امریکی فوجی اور ایک افغان مترجم ہلاک ہوئے تھے، جبکہ بعض لاشوں کی بے حرمتی بھی کی گئی تھی۔استغاثہ نے اپنے مؤقف میں لکھا کہ ملزم ایک ایسے پُرتشدد باغی گروہ کا سربراہ تھا جو امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو قتل کرنے پر تُلا ہوا تھا۔دوسری جانب، نجیب اللہ کے وکلاء نے 18 سال قید کی سزا کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کا مؤکل اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ طالبان کی حمایت کے نتیجے میں 2008 کی ہلاکتیں ہوئیں، تاہم وہ اس حملے میں براہِ راست شریک یا اس کا ہدایت کار نہیں تھا اور نہ ہی اغوا کی کارروائی کا مرکزی نگران تھا۔منگل کو سزا سنائے جانے سے قبل نجیب اللہ نے عدالت سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ روہڈ سے معذرت کی۔ اس نے کہا کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بہت افسوسناک تھا اور مجھے اس میں اپنے کردار پر گہرا افسوس ہے۔ بعد ازاں اس نے اپنی ذاتی مشکلات اور مصائب کا بھی ذکر کیا۔ڈیوڈ روہڈ نے بھی عدالت میں بیان دیا اور 2008 کے حملے میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں اور افغان مترجم کے نام لیتے ہوئے کہا کہ ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں نے شدید درد، نقصان اور غم برداشت کیا۔ انہوں نے یرغمال بنانے کو ظالمانہ اور بزدلانہ جرم قرار دیا۔ڈیوڈروہڈ ایک تجربہ کار صحافی تھے جو ایک کتاب کے لیے تحقیق کے دوران حاجی نجیب اللہ سے ملاقات اور گفتگو کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران انہیں افغان صحافی طاہر لودین اور اپنے ڈرائیور اسداللہ منگل کے ساتھ اغوا کر لیا گیا۔استغاثہ کے مطابق نجیب اللہ نے تینوں افراد پر جاسوسی کا الزام لگایا اور ان کے خاندانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ان سے تفتیش کی۔ اس کے ماتحت افراد نے یرغمالیوں کو طالبان کی پروپیگنڈا ویڈیوز بھی دکھائیں جن میں سر قلم کرنے کے مناظر شامل تھے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق اغوا کاروں نے کئی ماہ تک ڈیوڈروہڈ اور دیگر یرغمالیوں کو تاوان حاصل کرنے اور طالبان قیدیوں کی رہائی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ یرغمالیوں کو مدد کی اپیل پر مبنی فون کالز اور ویڈیوز بنانے پر مجبور کیا گیا، جن میں ایک ویڈیو میں روہڈ اپنی جان بخشنے کی درخواست کر رہے تھے جبکہ ان کے چہرے پر مشین گن تانی گئی تھی۔سات ماہ قید میں گزارنے کے بعد روہڈ اور طاہر لودین ایک طالبان کمپاؤنڈ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے رسی کے ایک ٹکڑے کی مدد سے رات کے وقت دیوار پھلانگی اور پیدل چلتے ہوئے پاکستانی فوجی اڈے تک پہنچ گئے۔ استغاثہ کے مطابق اسداللہ منگل تقریباً پانچ ہفتے بعد ایک جھڑپ کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔\932مزید بین الاقوامی خبریں
-
عمان کے ساحل کے قریب بھارتی آئل ٹینکر پر امریکی میزائل حملہ
-
ہم دشمن کی کسی بھی جارحیت کا بغیر کسی تاخیر کے جواب دیں گے
-
ایرانیوں نے جوہیلی کاپٹرگرایا اس میں بڑا بم موجود تھا یہ خوش قسمت ہیں وہ پھٹا نہیں
-
مسجد نبویؐ میں یومیہ 235 ٹن آب زم زم کی تقسیم
-
سعودی عرب میں اہم آثارِ قدیمہ کی دریافت، چٹانوں پر ابتدائی اسلامی دور کے شواہد
-
ٹرمپ کے جنگ بندی اعلانات ،اسرائیلی وزیراعظم کے اثر و رسوخ پر نئی بحث چھڑ گئی
-
کویت کا بذریعہ دفاعی نظام فضائی حملے ناکام بنانے کا دعوی
-
امریکی صحافی کے اغوا میں ملوث طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا
-
ٌنیتن یاہو ایران سے ہار گیا مگر ماننے کو تیار نہیں: معروف اسرائیلی صحافی کا حیران کن اعتراف
-
ایران کا بڑا جوابی وار! امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کی ویڈیو منظر عام پر آگئی
-
کاکروچ جنتاپارٹی مودی کے اقتدار کے لئے خطرہ ،عالمی میڈیا پرتحریک کی گونج
-
دلت نوجوان کی تشدد سے موت، اہل خانہ کا آخری رسومات ادا کرنے سے انکار
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.