طالبان رجیم دہشتگردی کی سرپرست،افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی کی عالمی سطح پرپھرتصدیق

ہفتہ 13 جون 2026 12:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 جون2026ء) طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشتگردی جاری ہے،افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی کی عالمی سطح پرپھرتصدیق کی گئی ہے، افغانستان میں عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں اورجدید ٹیکنالوجی تک رسائی پر روس کی جانب سے سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نےایک مرتبہ پھر افغانستان میں عالمی اور علاقائی دہشتگردوں کی موجودگی کےپاکستانی موقف کی تائیدکردی ۔

روسی سرکاری نیوز ایجنسی ’’ریا نووستی‘‘ کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر پیوتر ایلیچیف نےوسطی ایشیائی ممالک کے 19ویں اجلاس سے خطاب میں کہا کہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان خطے بالخصوص پڑوسی ممالک کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، وہاں اب بھی 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں جنہیں افغان رجیم نے سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کیاہواہے ۔

(جاری ہے)

پیوتر ایلیچیف نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کےجنگجوؤں کی تعداد 23 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ، ان دہشتگرد تنظیموں کو مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی اسلحے کی تجارت سے بڑے پیمانے پر مالی وسائل حاصل کر رہے ہیں ۔

عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی جانب سےدہشتگردگروہوں کی سرپرستی اورمحفوظ پناہ گاہیں فراہم کرناخطےمیں دہشتگردی کی نئی لہرکا بنیادی سبب بن رہاہے ۔انہوں نے کہا کہ روسی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان پاکستان کے اس دیرینہ موقف کو بالکل درست ثابت کرتا ہے کہ افغانستان میں قائم 'نارکو ٹیرر نیکسس' براہِ راست افغان رجیم کی سرپرستی میں چل رہا ہے ۔