بھارتی ریاست اترپردیش میں حکام نے ہندو انتہاپسندوں کے احتجاج کے بعد مدرسے کو مسمار کر دیا

منگل 16 جون 2026 22:22

لکھنؤ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 جون2026ء) بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ایک مسلم اکثریتی گائوں میں قائم مدرسے کے خلاف احتجاج کے صرف ایک دن بعد حکام نے مدرسے کو منہدم کر دیا ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع انائو کے گائوں اسونیہ میں واقع مدرسے کو بھاری تعداد میں پولیس کی موجودگی میں بلڈوزروں سے ملبےکے ڈھیرمیں تبدیل کردیا گیا۔

یہ کارروائی ہند و انتہاپسند تنظیم بجرنگ دل کے احتجاجی مظاہرے کے بعد کی گئی جس نے مدرسے پر سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کا الزام لگاتے ہوئے اسے فوری طور پر مسمار کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔حکام نے دعویٰ کیا کہ مدرسہ تقریباً 0.835 ہیکٹر سرکاری اراضی پر تعمیر کیا گیا تھا جو ریونیو دستاویزات میں کھیل کے میدان کے طور پر درج ہے تاہم انہدامی کارروائی بجرنگ دل کے کارکنوں کی طرف سے مقامی حکام کو پیش کی گئی یادداشت اور احتجاج کے فوراً بعد کی گئی۔

(جاری ہے)

یادداشت میں فوری کارروائی کے لیے دبائو ڈالا گیا اور تاخیرکی صورت میں نتائج کے لئے تیار رہنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ کارروائی کے نتیجے میں اسونیا گائوں کے رہائشی ایک تعلیمی ادارے سے محروم ہوگئے جہاں علاقے کے بچے برسوں سے تعلیم حاصل کررہے تھے۔مقامی مسلمان دیکھتے ہی رہ گئے جب پولیس کے پہرے میں مدرسے کے کلاس رومز اور عمارت کو ملبہ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔