پولینڈ کا زیلینسکی سے اعزاز واپس لینے کا فیصلہ، یوکرینی حکام کی تنقید

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ 20 جون 2026 16:40

پولینڈ کا زیلینسکی سے اعزاز واپس لینے کا فیصلہ، یوکرینی حکام کی تنقید

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 جون 2026ء) پولینڈ کے صدر کارول ناوروفسکی نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی سے ''آرڈر آف دی وائٹ ایگل‘‘ واپس لے لیں گے۔ یہ فیصلہ زیلینسکی کی اس کارروائی کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے ایک فوجی یونٹ کا نام یوکرین کی ایک نیم فوجی تنظیم کے نام پر رکھا، جس پر دوسری جنگ عظیم کے دوران پولش افراد کے قتل عام کے الزامات ہیں۔

سابق پولش صدر انجے ڈوڈا نے 2023 میں زیلینسکی کو یہ اعزاز سکیورٹی، استحکام اور انسانی حقوق کے دفاع میں ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا تھا۔

اس تنازعے کا آغاز کیسے ہوا؟

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی نے 26 مئی کو ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت یوکرین کی اسپیشل آپریشنز فورسز کے ایک یونٹ کا نام یوکرینی انسرجنٹ آرمی (UPA) کے نام پر رکھا گیا۔

(جاری ہے)

یہ تنظیم 1940 اور 1950 کی دہائیوں میں فعال رہی اور اس پر پولینڈ میں بڑے پیمانے پر قتل کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

ناوروفسکی نے سوشل میڈیا پر اپنی 13 منٹ کی تقریر کے دوران کہا: ''پولش معاشرے کی اکثریت کے لیے، یوکرینی انسرجنٹ آرمی دوسری جنگ عظیم کے دوران پولش جمہوریہ کے شہریوں کے خلاف سب سے بڑھ کر سنگین جرائم کی ذمہ دار تنظیم ہے۔

‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اعزاز کی واپسی کا مطلب یہ نہیں کہ روس کے خلاف دفاع میں یوکرین کے لیے پولینڈ کی حمایت کم ہو جائے گی۔

یوکرینی حکام کا ردعمل

یوکرینی صدارتی دفتر کے سربراہ کیریلو بودانوف نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ ناوروفسکی کا فیصلہ ''ہمارے عوام کے خلاف غیر دوستانہ اقدام‘‘ ہے اور ''ماسکو جارح کے لیے تحفہ، جسے وہ یقینی طور پر دونوں ممالک کے خلاف استعمال کرے گا۔

‘‘

یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے اس فیصلے کو ''پولینڈ کے صدر کی ایک اسٹریٹیجک غلطی‘‘ قرار دیا جو صرف ماسکو کے مفاد میں ہے۔

پولینڈ میں یوکرین کے سفیر واسیل بودنار نے کہا کہ یہ فیصلہ خاص طور پر اس وقت "بہت تکلیف دہ” ہے جب یوکرینی عوام میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

تینوں یوکرینی حکام نے اعلان کیا کہ وہ پولش ریاست کی طرف سے ملنے والے اپنے اعزازات واپس کر دیں گے۔

پولینڈ آئندہ ہفتے یوکرین کی جنگ کے بعد کی تعمیرِ نو کے حوالے سے ایک بڑی تقریب کی میزبانی کرے گا، جس میں زیلینسکی کی شرکت متوقع ہے۔

پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے، جو ناوروفسکی کے سیاسی حریف ہیں، دونوں رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ''جذبات کو قابو کریں، کشیدگی نہ بڑھائیں۔‘‘

ٹسک نے جمعہ کی رات سوشل میڈیا پر لکھا، ''محاذ کہیں اور ہے۔

‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پولینڈ اور یوکرین کے درمیان تنازعہ ''پوٹن کے لیے مسرت اور ہمارے اتحادیوں کے لیے وجہ حیرت ہے۔‘‘

زیلینسکی کے 26 مئی کے فرمان میں کہا گیا کہ یوکرین کی اسپیشل آپریشنز فورسز کے ایک یونٹ کا نام کی تبدیلی کا مقصد قومی فوج کی تاریخی روایات کو بحال کرنا اور یوکرین کی علاقائی سالمیت و آزادی کے دفاع میں یونٹ کی کارکردگی کو تسلیم کرنا ہے۔

یوکرینی انسرجنٹ آرمی (یو پی اے) نے نازی جرمنی اور سوویت افواج دونوں کے خلاف یوکرین کی آزادی کے لیے جدوجہد کی، لیکن اس پر ہزاروں پولش افراد کے قتل کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر وولینیا اور مشرقی گالیسیا کے نازی قبضے والے علاقے شامل ہیں۔ 2016 میں پولش پارلیمنٹ نے یو پی اے کے جرائم کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

یوکرینی موقف ہے کہ دونوں جانب کی مسلح تنظیمیں، بشمول یو پی اے اور پولش زیر زمین افواج، حملوں اور جوابی کارروائیوں میں ملوث تھیں جن کے نتیجے میں پولش اور یوکرینی شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔

حال ہی میں پولینڈ اور یوکرین نے پولش متاثرین کی باقیات نکالنے کے معاملے میں پیشرفت کی تھی۔ دسمبر میں وارسا میں دونوں صدور کی ملاقات نے تاریخی مفاہمت کے حوالے سے پیش رفت کا اشارہ دیا تھا۔


ادارت: کشور مصطفیٰ