اقوام متحدہ نے ایچ آئی وی /ایڈز سے متعلق قرار داد منظور کرلی ، 2030 تک اس مرض کا خطرہ ختم کرنے کے عزم کا اعادہ

بدھ 24 جون 2026 11:01

اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جون2026ء) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایچ آئی وی /ایڈز سے متعلق سیاسی اعلامیہ منظور کرتے ہوئے 2030 کے اختتام تک اس مرض کا خطرہ ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ شنہوا کے مطابق گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایچ آئی وی /ایڈز سے متعلق قرار داد کی حمایت میں 149 اور مخالفت میں 8 ووٹ ڈالے گئے جبکہ 14 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

جاری اعلامیے میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دنیا 2025 کے عالمی ایچ آئی وی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور 2030 تک ایڈز کا خطرہ ختم کرنے کے ٹریک پر بھی نہیں ہے۔ اعلامیے میں 2001 کے ایچ آئی وی / ایڈز سے متعلق عہد نامے، 2006، 2011، 2016 اور 2021 کے سیاسی اعلانات اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف ( ایس ڈی جیز ) سے وابستگی کا اعادہ کیا گیا ۔

(جاری ہے)

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی 2031 میں ایچ آئی وی / ایڈز پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرے گی تاکہ 2026 میں کیے گئے وعدوں پر پیش رفت اور 2030 تک ایڈز کے خاتمے کے ہدف کا جائزہ لے سکے۔ ایچ آئی وی / ایڈز پر اقوام متحدہ کے مشترکہ پروگرام (UNAIDS) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر وینی بیانیما نے اجلاس کے افتتاحی سیشن میں کہا تھا کہ یہ سیاسی اعلامیہ گزشتہ 25 سال کے عزم کو آگے بڑھانے اور 2030 تک یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ کثیرالجہتی تعاون موثر نتائج دے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ناکام نہیں ہو سکتے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ عالمی تعاون کو مضبوط بنانا، بین الاقوامی مالی معاونت برقرار رکھنا، ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کے حقوق کا تحفظ کرنا، مقامی کمیونٹیز کو قیادت دینا اور سائنسی ترقی کو تیز کرنا ہے تاکہ نئی ایجادات ضرورت مندوں تک جلد پہنچ سکیں،اس طرح ہم ایڈز کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

UNAIDS کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق مسلسل سرمایہ کاری، سائنسی ترقی اور کمیونٹی کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں نے ایڈز کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، 2010 کے بعد ایڈز سے ہونے والی اموات میں 56 فیصد کمی آئی اور نئے ایچ آئی وی انفیکشنز میں 43 فیصد کمی ہوئی ہے۔ ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے 40.9 ملین افراد میں سے 32.1 ملین (78 فیصد) اب علاج کی سہولت حاصل کر رہے ہیں۔