او جی ڈی سی ایل نے سندھ کے بوبی ڈیپ-1 کنویں سے تیل کی پیداوار شروع کر دی

سانگھڑ میں نئی دریافت سے یومیہ 2 ہزار بیرل خام تیل کی پیداوار، درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی اور قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت متوقع

پیر 29 جون 2026 16:56

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جون2026ء) آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع بوبی ڈیپ-1 کنویں سے خام تیل کی باقاعدہ پیداوار کا آغاز کر دیا ہے، جسے ملکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نئی پیداوار سے نہ صرف ملکی تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ درآمدی خام تیل پر انحصار کم ہونے کے ساتھ قیمتی زرِ مبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔

او جی ڈی سی ایل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بوبی ڈیپ-1 کنویں سے اس وقت یومیہ 2 ہزار بیرل خام تیل حاصل کیا جا رہا ہے۔ پیدا ہونے والے تیل کو قومی ترسیلی نظام میں شامل کرنے کے لیے ڈیڑھ کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانے کا کام بھی کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد باقاعدہ پیداوار اور ترسیل کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

(جاری ہے)

کمپنی نے یاد دلایا کہ 3 جون 2026 کو بوبی ڈیپ-1 سے تیل کی دریافت کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ مختصر مدت میں ضروری تکنیکی اور انفراسٹرکچر کی تکمیل کے بعد اب اس کنویں سے تجارتی بنیادوں پر پیداوار کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز میں او جی ڈی سی ایل کے 100 فیصد ورکنگ شیئرز ہیں، جو ملکی وسائل سے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کمپنی کی استعداد اور صلاحیت کا مظہر ہیں۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیل کی پیداوار میں اضافہ نہ صرف درآمدی بل میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ توانائی کے شعبے کو زیادہ مستحکم بنانے، ملکی معیشت کو سہارا دینے اور مستقبل میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

متعلقہ عنوان :