ایس ای سی پی کا انشورنس صارفین کے تحفظ، کلیمز کی بروقت ادائیگی اور کمپنیوں کے طرزِ عمل میں شفافیت کے لیے مارکیٹ کنڈکٹ رولز کا مسودہ جاری

جمعرات 20 اگست 2026 12:49

ایس ای سی پی کا  انشورنس صارفین کے تحفظ، کلیمز کی بروقت ادائیگی اور ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 اگست2026ء) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی)نے انشورنس صارفین کے تحفظ، کلیمز کی بروقت ادائیگی اور انشورنس کمپنیوں کے طرزِ عمل میں شفافیت بڑھانے کے لیے مارکیٹ کنڈکٹ رولز فار انشوررز 2026 کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے جاری کر دیا ۔جمعرات کو ایس ای سی پی سے جاری بیان کے مطابق مجوزہ رولز میں پالیسی کے اجرا سے لے کر کلیم کی پراسیسنگ اور ادائیگی تک انشورنس کمپنیوں کی ذمہ داریوں کو واضح کرتے ہوئے مختلف مراحل کے لیے لازمی ٹائم لائنز مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، رولز کا اطلاق بنیادی طور پر انفرادی صارفین کی انشورنس پالیسیوں پر ہوگا۔

مسودے کے مطابق لائف انشورنس کلیم پر تمام مطلوبہ دستاویزات اور وضاحتیں موصول ہونے کے بعد انشورنس کمپنی کو 20 ورکنگ دنوں کے اندر کلیم کا فیصلہ کرنا ہوگا ،اگر کلیم کی تحقیقات ضروری ہوں تو تحقیقات 20 ورکنگ ڈیز کے اندر مکمل کرکے مزید 10 ورکنگ ڈیز میں کلیم کا فیصلہ کرنا ہوگا، کلیم مسترد ہونے کی صورت میں کمپنی کو فیصلے کی وجوہات بھی تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔

(جاری ہے)

نان لائف انشورنس میں بھی کلیمز کے فیصلے کے لیے واضح مدت مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ موٹر انشورنس کلیم پر حتمی سروے رپورٹ موصول ہونے کے بعد پانچ جبکہ دیگر نان لائف کلیمز پر سات ورکنگ ڈیز میں فیصلہ کرنا ہوگا، کلیم منظور ہونے کے بعد فیصلے سے آگاہ کرنے اور ادائیگی کے عمل کے لیے بھی مقررہ مدت کی پابندی کرنا ہوگی۔ہیلتھ انشورنس کے تحت ہسپتال میں داخل مریض کے کلیم کو ضروری دستاویزات موصول ہونے کے بعد 20 ورکنگ ڈیز میں نمٹانا ہوگا، ہسپتال کی جانب سے ڈسچارج کی درخواست موصول ہونے پر انشورنس کمپنی کو تین گھنٹے کے اندر حتمی منظوری دینا ہوگی اور انشورنس کمپنی کی جانب سے منظوری میں تاخیر کی وجہ سے مریض کو ہسپتال سے ڈسچارج ہونے سے نہیں روکا جا سکے گا۔

مجوزہ رولز کے تحت انشورنس کمپنی کلیم کی پراسیسنگ کے لیے صرف وہی دستاویزات طلب کر سکے گی جو کلیم سے براہ راست متعلق ہوں، انڈر رائٹنگ کے مرحلے پر درکار دستاویزات بعد میں طلب نہ کیے جانے کی وجہ سے کلیم مسترد نہیں کیا جا سکے گا۔ کلیم کی اطلاع موصول ہونے کے سات ورکنگ دنوں کے اندر کمپنی کو کلیم کی وصولی کی تصدیق، کلیم ریفرنس نمبر، متعلقہ رابطہ معلومات، متوقع پراسیسنگ ٹائم اور درکار دستاویزات کی تفصیل فراہم کرنا ہوں گی،شفافیت بڑھانے کے لیے پہلی بار انشورنس کمپنیوں کو اپنے کلیمز کی کارکردگی عوام کے سامنے لانے کا پابند بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

کمپنیوں کو کلیم سیٹلمنٹ، مسترد شدہ کلیمز، زیر التوا کلیمز اور ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا کلیمز کے تناسب کو اپنی ویب سائٹس اور سالانہ رپورٹس میں ظاہر کرنا ہوگا، یہ معلومات کلیمز کی تعداد اور مالیت دونوں بنیاد پر فراہم کرنا ہوں گی جبکہ گزشتہ تین سال کے کلیم ریشوز بھی ظاہر کیے جائیں گے۔پالیسی کے اجرا میں تاخیر روکنے کے لیے بھی ٹائم لائنز تجویز کی گئی ہیں۔

انشورنس کمپنی کو نئی پالیسی کی درخواست پر سات ورکنگ ایام میں فیصلہ کرنا ہوگا جبکہ لائف انشورنس پالیسی کی دستاویزات، مطلوبہ شرائط پوری ہونے اور پریمئم کی وصولی کے بعد زیادہ سے زیادہ 20 ورکنگ ایام میں جاری کرنا ہوں گی۔ ڈیجیٹل ذرائع یا ٹیلی مارکیٹنگ کے ذریعے فروخت کی گئی پالیسی کی دستاویزات زیادہ سے زیادہ تین ورکنگ ایام میں جاری کرنا ہوں گی۔

موٹر انشورنس میں کمپنی کو پالیسی کے اجرا یا تجدید سے قبل صارف کو گاڑی کی موجودہ تخمینی مارکیٹ ویلیو سے آگاہ کرنا ہوگا، یہ ویلیو کسی آزاد اور قابل اعتماد ذریعے سے حاصل کرنا ہوگی جبکہ صارف کو گاڑی کی اوور انشورنس یا انڈر انشورنس کے کلیم پر ممکنہ اثرات بھی بتانا ہوں گے۔موٹر انشورنس کلیمز میں منظور شدہ مرمت عمومی حالات میں مرمت کے تخمینے کی منظوری کے بعد 15 ورکنگ دنوں کے اندر مکمل کرنا ہوگی، مجوزہ رولز میں مکمل تباہ شدہ یا معاشی طور پر ناقابلِ مرمت گاڑیوں کے کلیمز کے لیے بھی واضح تقاضے مقرر کیے گئے ہیں۔

نان لائف انشورنس پالیسی ہولڈر کو پالیسی کی مدت کے دوران بغیر کوئی وجہ بتائے پالیسی منسوخ کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا، مقررہ شرائط کے تحت پالیسی کی باقی مدت کا پریمیم بھی واپس کرنا ہوگا۔ دوسری جانب انشورنس کمپنی پالیسی صرف فراڈ پر مبنی غلط بیانی یا حقائق چھپانے کی بنیاد پر منسوخ کر سکے گی اور اس سے پہلے پالیسی ہولڈر کو جواب دینے کے لیے کم از کم 15 ورکنگ ڈیز دینا ہوں گے۔

مجوزہ رولز کی خلاف ورزی پر انشورنس کمپنی اور خلاف ورزی میں دانستہ طور پر شریک ذمہ دار افسران پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں روزانہ مزید 10 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ایس ای سی پی نے ایس آر او 1377(I)/2026 کے ذریعے مجوزہ رولز پر 30 دن کے اندر عوام، انشورنس انڈسٹری اور دیگرسٹیک ہولڈرز سے تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں۔ موصول ہونے والی آرا اور تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد مجوزہ رولز کو حتمی منظوری کے متعلقہ عمل کے لیے پیش کیا جائے گا۔