100ارب ڈالر کا برآمدی ہدف حاصل کرنے کیلئے غیر معمولی اقدامات کرنا ہونگے‘خادم حسین

جمعہ 21 اگست 2026 11:36

100ارب ڈالر کا برآمدی ہدف حاصل کرنے کیلئے غیر معمولی اقدامات کرنا ہونگے‘خادم ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اگست2026ء) فائونڈر ز گروپ کے سرگرم رکن، پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈ اور سابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ 100 ارب ڈالر کا برآمدی ہدف حاصل کرنے کیلئے غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے اور اس کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے طویل المدت اور جامع پالیسی تشکیل دی جائے، موجودہ صنعتی و معاشی صورتحال میں موجودہ رفتار کے ساتھ یہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو ملکی برآمدات 30.1 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 69.8 ارب ڈالر رہیں جس کے نتیجے میں 39.6 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ سامنے آیا، جسے بڑی حد تک ترسیلات زر نے سہارا دیا، یہ ذہن میں رکھا جائے کہ ترسیلات زر کو طویل مدت کیلئے بیرونی ادائیگیوں کا مستقل حل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

(جاری ہے)

خادم حسین نے کہا کہ حکومت کو ترسیلات زر کو ملکی صنعتی اور برآمدی کمزوری کا متبادل بنانے کے بجائے برآمدی صلاحیت میں اضافے پر توجہ دینا ہوگی جس کیلئے واضح وژن، پالیسی کا تسلسل اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کیلئے موجودہ رفتار اس ہدف سے مطابقت نہیں رکھتی ،مطلوبہ سطح تک پہنچنے کیلئے آئندہ دہائی کے دوران برآمدات میں اوسطاًتقریبا 10 فیصد سالانہ مسلسل اضافہ درکار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 100 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے، اگر حکومت صنعت سے پانچ سالہ برآمدی منصوبہ طلب کرتی ہے تو اسے توانائی، ٹیکس، کسٹمز، شرح مبادلہ اور درآمدی قواعد سمیت اہم شعبوں میں کم از کم پانچ سال کا قابلِ اعتماد اور مستحکم پالیسی فریم ورک بھی فراہم کرنا ہوگا تاکہ صنعتکار اور برآمد کنندگان طویل المدت سرمایہ کاری اور کاروباری منصوبہ بندی کر سکیں۔