لطیف کھوسہ کی جھیل سیف اللہ میں اہل خانہ سمیت جاں بحق پاک بحریہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت

ہماری حکومتیں سول ذمہ داری سے بری الزمہ ہوچکیں، سانحہ پر میرے پاس الفاظ نہیں ، ان کی فیملی کی تین نسلیں ختم ہو گئیں، جو بھی ہوا ہے اس کا احتساب ہونا چاہیے. تحریک انصاف کے رہنما کی صحافیوں سے گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ 4 جولائی 2026 17:35

لطیف کھوسہ کی جھیل سیف اللہ میں اہل خانہ سمیت جاں بحق پاک بحریہ کے ریٹائرڈ ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 جولائی ۔2026 ) تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے خیبر پختوانخوا کے سیاحتی مقام وادی کالام کی جھیل سیف اللہ میں جاں بحق ہونے والے پاک بحریہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل کے گھر ڈیفنس فیز سکس لاہور میں اہل خانہ سے تعزیت کی.

(جاری ہے)

لطیف کھوسہ نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومتیں سول ذمہ داری سے بری الزمہ ہوچکی، اس سانحہ پر میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ، ان کی فیملی کی تین جنریشن ختم ہو گئی ہیں لطیف کھوسہ نے کہا کہ جو بھی ہوا ہے اس کا احتساب ہونا چاہیے، میں ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہوں، چھت گر جاتی ہے چودہ بچے مر جاتے ہیں آپ جا کر صرف ٹسوے بہاتے ہیں، حکومت کسی سانحے کی ذمہ داری نہیں لیتی ہے بس جا کر دو جھوٹے آنسو بہاتے ہیں اور بری الزمہ ہوجاتے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ میں آج یہاں اس حلقے کے بطور ایم این اے حاضر ہوا ہوں، چھ افراد اس سانحہ میں شہید ہوگئے جبکہ ایک بچی مسنگ ہے، ان سانحے پر میرے پاس الفاظ نہیں کہ کیسے اظہار تعزیت کروں ان کی تین نسلیں ختم ہوگئی ہیں اس سانحے میں، اس سانحہ کا مواخذہ ہونا چاہیے، آ ئندہ کےلئے حکومت کو ایسے سانحات سے نمٹنے کے لئے احتیاطی تدابیر کرنی چاہئیں، آئین کے طالب علم ہونے کے حیثیت سے کہنا چاہتا ہوں، حکومت کا کام لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کر اولین فریضہ ہے.

انہوں نے کہا ہے متاثرہ خاندان اس معاملے کی تحقیقات کرانا چاہتا ہے جو اچھی بات ہے، حکومت کا فرض ہے چیزوں کوریگولیٹ کرنا، آئندہ اس طرح سانحات کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے، میں چیف منسٹر خیبر پختونخواہ سے خود بات کروں گا لطیف کھوسہ نے کہا کہ صرف ایک انکوئری کمیٹی بنانے سے متاثرہ خاندان کی تسلی نہیں ہوئی نہ ہی ہماری تسلی ہوئی ہے، صرف ایف آئی آر کو درج کر لینا کافی نہیں ہے، خیبر پختونخوا کی حکومت کو اس پر مکمل انکوائری کرانی چاہیے.