چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا زیرِ تربیت افسران کے ساتھ پارلیمانی جمہوریت اور آئینی طرزِ حکمرانی پر تبادلہ خیال

جمعہ 21 اگست 2026 17:24

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا زیرِ تربیت افسران کے ساتھ پارلیمانی جمہوریت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اگست2026ء) چیف جسٹس آف پاکستان سے سول سروسز اکیڈمی کے 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے زیرِ تربیت افسران نے سپریم کورٹ میں ملاقات کی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے زیرِ تربیت افسران کے ساتھ پارلیمانی جمہوریت اور آئینی طرزِ حکمرانی پر تبادلہ خیال کیا۔ جمعہ کو زیرِ تربیت افسران کا وفد ریاستی اداروں کے لازمی مطالعاتی دوروں کے سلسلے میں سپریم کورٹ پہنچا۔

وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی فرحان عزیز خواجہ نے کی، فیکلٹی ممبران بھی ہمراہ تھے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے زیرِ تربیت افسران کے ساتھ پارلیمانی جمہوریت اور آئینی طرزِ حکمرانی پر تبادلہ خیال کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اختیارات کی سہ جہتی تقسیم اور مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے باہمی کردار پر روشنی ڈالی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہاکہ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ آئینی طرزِ حکمرانی اور قانون کی حکمرانی کے قیام میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے زیرِ تربیت افسران کو عدالتی نظام کی مختلف سطحوں اور عدالتوں کے متعلقہ دائرہ اختیار سے آگاہ کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے انصاف کے شعبے میں ادارہ جاتی ہم آہنگی اور جاری اصلاحات پر روشنی ڈالی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی ملک کا اعلیٰ ترین عدالتی پالیسی فورم ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کی بہتری کے اقدامات سے وفد کو آگاہ کیا۔

ایکسیس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے ذریعے عدالتوں میں بلاتعطل بجلی، ای لائبریریز اور پینے کے صاف پانی کی سہولیات بہتر بنائی جا رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالتوں میں خواتین سائلین کے لیے سہولیات کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے، سال 2026-27 کو جینڈر ریسپانسیو جسٹس انیشی ایٹو کے لیے مختص کیا گیا ہے۔