نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ ترکی پہنچ گئے، اتحادی ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کا دباﺅ

ترک صدر نے استقبال کیا‘ ٹرمپ ترکی کو جدید ایف35لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں. امریکی حکام

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل 7 جولائی 2026 17:19

نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ ترکی پہنچ گئے، اتحادی ..
انقرہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 جولائی ۔2026 ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کے اہم سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اتحادی ممالک پر دفاعی اخراجات میں اضافے کے لیے دباﺅ بڑھائیں گے دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ترکی کو جدید ایف35لڑاکا طیارے فروخت کرنے پر بھی آمادگی کا اشارہ دے سکتے ہیں، جو ان کی پہلی صدارتی مدت کے دوران عائد کی گئی پابندیوں میں تبدیلی تصور کی جا رہی ہے.

(جاری ہے)

انقرہ میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے موقع پر ٹرمپ کی نیٹو پر تنقید ایک بار پھر توجہ کا مرکز ہے وہ طویل عرصے سے یورپی اتحادیوں پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں پر زیادہ سرمایہ کاری کریں اور سیکیورٹی کے بوجھ میں امریکہ کا زیادہ ساتھ دیں امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اجلاس کے دوران اس بات کا اشارہ دے سکتے ہیں کہ وہ ترکی کو جدید ایف35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں.

امریکی نشریاتی ادارے نے ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ نیٹو اجلاس میں ”آبنائے ہرمز“ کی سیکیورٹی بھی اہم موضوعات میں شامل ہوگی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اس اہم بحری گزرگاہ کی سلامتی پر اتحادی رہنما تفصیلی غور کریں گے صدر ٹرمپ کی یوکرینی صدر زیلنسکی سے بھی انقرہ میں ملاقات متوقع ہے ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو صرف 24 گھنٹوں میں ختم کر دیں گے، تاہم ان کی انتظامیہ اب تک اس تنازع کے مستقل اور قابلِ عمل حل تک نہیں پہنچ سکی.

دریں اثناانقرہ پہنچنے پر صدر ٹرمپ کا بھرپور استقبال کیا گیا اور“ایتمسگوت ایئر بیس“ پر ان کے اعزاز میں سرخ قالین کی روایت کو ترک ثقافت کے مطابق فیروزی رنگ کے قالین سے بدل دیا گیا، جبکہ ترک فوج کے دستے نے انہیں سلامی پیش کی ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر کا استقبال کیا وائٹ ہاﺅس کے مطابق انقرہ آمد پر صدر ٹرمپ کا استقبال ترکی میں امریکی سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بیرک ‘ نیٹو میں امریکہ کے سفیر میٹ وٹیکر اور امریکی مسلح افواج کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بھی کیا.

نیٹو کا دو روزہ سربراہی اجلاس عالمی سلامتی، یورپ کے دفاع، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور یوکرین جنگ سمیت متعدد اہم بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے جبکہ صدر ٹرمپ کے ممکنہ فیصلوں پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں.