بڑے شہروں میں کلب کلچر اور نائٹ پارٹیز کی وجہ سے بھی ایڈز پھیل رہا ہے

کلب کلچر اور نائٹ پارٹیز میں آئس اور نشہ آورچیزیں استعمال کی جاتی ہیں، جنسی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں، تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد سے یومیہ 40 تک نئے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا انکشاف

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 9 جولائی 2026 18:41

بڑے شہروں میں کلب کلچر اور نائٹ پارٹیز کی وجہ سے بھی ایڈز پھیل رہا ہے
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 09 جولائی 2026ء ) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ بڑے شہروں میں کلب کلچر اور نائٹ پارٹیز کی وجہ سے بھی ایڈز پھیل رہا ہے، کلب کلچر اور نائٹ پارٹیز میں آئس اور نشہ آورچیزیں استعمال کی جاتی ہیں، جنسی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر صحت نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایڈز پھیلاؤ کا صرف آلودہ سرنجیں ہی مسئلہ نہیں رہیں بلکہ ایچ آئی وی پھیلنے کی دیگر وجوہات بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں کلب کلچر اور نائٹ پارٹیز کی وجہ سے بھی ایڈز پھیل رہا ہے، کلب کلچر اور نائٹ پارٹیز میں آئس اور نشہ آورچیزیں استعمال کی جاتی ہیں، جبکہ غیر محفوظ جنسی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزارتِ صحت خود جا کر پارٹیز نہیں روک سکتی، بلکہ تمام متعلقہ اداروں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ انتہائی تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد سے روزانہ ایچ آئی وی کے 35 سے 40 نئے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، متاثرہ افراد میں بڑی تعداد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ہے۔

جبکہ بہت سے نوجوانوں کو اس خطرے کا ادراک ہی نہیں۔ وزیراعظم کی زیرِ صدارت حال ہی میں اس معاملے پر اجلاس بھی ہوا، جس میں تمام متعلقہ اداروں کو طلب کیا گیا اور وزیراعظم کو ایچ آئی وی سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کردی گئی ہے۔ کراچی کے ولیکا اسپتال کے کیس کا حوالہ دوں تو یہ ڈیڑھ سال پرانا واقعہ ہے اور وہاں ایچ آئی وی آلودہ سرنجوں کے ذریعے پھیلا تھا، تاہم اب کیسز کی وجوہات مختلف ہیں۔