پنجاب حکومت کی آنے والے دنوں میں شدید گرمی، بارشوں کی لہر اور اربن فلڈنگ کے دوران کنٹرولڈ ٹورازم یقینی بنانے کی ہدایت

نہیں چاہتے نااہلی سے ایک بھی جان جائے، نام نہیں لینا چاہتی لیکن کچھ صوبوں میں بارش کے بعد پانی کھڑا ہی رہتا ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 9 جولائی 2026 19:20

پنجاب حکومت کی آنے والے دنوں میں شدید گرمی، بارشوں کی لہر اور اربن فلڈنگ ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 09 جولائی 2026ء ) پنجاب حکومت نے آنے والے دنوں میں شدید گرمی اور بارشوں کی لہر کے دوران کنٹرولڈ ٹورازم یقینی بنانے کی ہدایت کردی، پنجاب میں ہیٹ ویو اور اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز نے اوسط بارش کی پیشن گوئی اور ہیٹ ویو زونز کیلئے جامع ایڈوائزری دینے کا حکم دے دیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب اور مون سون کی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نہیں چاہتے نااہلی سے ایک بھی جان جائے۔  نام نہیں لینا چاہتی لیکن کچھ صوبوں میں بارش کے بعد پانی کھڑا ہی رہتاہے ہم نے گزشتہ سیلاب سے سیکھنے کی کوشش کی گئی۔ مزید برآں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اور وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کے مابین اہم ملاقات ہوئی۔

(جاری ہے)

ملاقات میں سینئر منسٹر مریم اورنگزیب، چیف سیکرٹری، چیئرمین این ڈی ایم اے، ایس ایم بی آر اور پی ڈی ایم اے کے حکام نے بھی شرکت کی۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ”پنجاب کلائمیٹ اینڈ ڈیزاسٹر ریزیلینس پلان 2026“ پیش کیا اور تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات میں وفاق اور پنجاب کے مابین شدید موسمیاتی ایونٹس کی پیشین گوئی کیلئے ارلی وارننگ سسٹم پر اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر پنجاب کے تمام اضلاع میں وفاقی حکومت کے اشتراک سے سینٹرلائزڈ انفارمیشن اسکرینز قائم کرنے پر غورکیا گیا۔ ملاقات میں کسی بھی ایکسٹریم ویدر ایونٹ سے کم از کم 6 گھنٹے پہلے باہمی کوآرڈینیشن پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اور تحصیل لیول پر کلائمیٹ اور فلڈ سے متعلق سینٹرلائزڈ انفارمیشن اسکرینز انسٹال کرنے کی تجویز کا جائزہ بھی لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے مون سون اور سیلاب سے نمٹنے کی تیاری کے لیے فوری فرضی مشقیں شروع کرنے کا حکم دیا اور پی ڈی ایم اے کو این ڈی ایم اے کے ساتھ بہتر کوآرڈینیشن قائم رکھنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے شدید گرمی اور بارشوں کی لہر کے دوران کنٹرولڈ ٹورازم یقینی بنانے کی ہدایت کی اور اوسط بارش کی پیشین گوئی اور ہیٹ ویو زونز کے لئے جامع ایڈوائزری دینے کا حکم دیا۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سیلاب اور دیگر شدید موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے اضلاع کی لاجسٹکس کو بڑھانے کی ہدایت کی اور کہا کہ سیلاب بہت بڑے لیول کا تھا لیکن الحمدللہ صوبے میں ایک بھی بیماری نہیں پھوٹی۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو ادویات، کھانے، پینے، رہنے اور نہانے تک کے لیے تمام سہولتیں فراہم کیں۔ سیلاب کے دوران نہ جانوروں میں کسی وبا کی آؤٹ بریک ہوئی اور نہ ہی انسانوں میں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے کلینک آن ویلز اور فیلڈ ہاسپٹلز موقع پر تعینات کیے گئے۔ پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کو تکنیکی طور پر جدید ترین خطوط پر استوار کر دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت اربوں روپے کی لاگت سے واٹر اسٹوریج کیپیسٹی میں اضافہ کر رہی ہے۔ واسا اور ویسٹ مینجمنٹ کا نظام پہلے صرف لاہور تک محدود تھا،اب ہر جگہ ہے۔

پہلے صوبے میں صرف دو جگہوں پر واسا تھا، اب پنجاب کے ہر ضلع میں واسا قائم ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اربن فلڈنگ پر پہلے لاہور یا بڑے شہروں سے مشینری جاتی تھی، اب اربوں کی مشینری ہر ڈسٹرکٹ کو دی ہے۔ الحمد للہ! اب پنجاب کے ہر ضلع کا واسا کا اپنا آپریشنل فلیٹ موجود ہے۔ ملک میں شدید اور غیر متوقع موسمی رجحانات کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ مریم نواز شریف کی لیڈرشپ میں پنجاب حکومت نے زبردست اور مثالی کام کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی شاندار کارکردگی کے سخت ترین مخالفین اور مدمقابل بھی معترف ہیں۔ پنجاب میں جس پیس (Pace) پر کام ہو رہا ہے، سخت مخالفین بھی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔ وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ میری ذاتی خواہش ہے کہ انوائرمنٹ اور کلائمیٹ پر وزیراعلیٰ مریم نواز کی لیڈرشپ کے ساتھ کام کروں۔

ماحول، موسمیاتی تبدیلی اور ڈسزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے پنجاب میں زبردست کام ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال بھارتی آبی جارحیت سے وقت کم ملا، اس کے باوجود پنجاب نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ سیلاب کے دوران ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے سمیت تمام صوبائی اداروں نے بے حد محنت کی۔ گزشتہ سال کے سیلاب میں بڑے نقصانات سے بچاؤ اللہ کا کرم ہے، صرف فزیکل انفراسٹرکچرپر نقصان پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا حکم ہے کہ پنجاب سمیت تمام صوبائی حکومتوں سے مل کر موسمیاتی تبدیلی کے پلان پر کام کیا جائے۔ ملک میں وزیر اعظم پاکستان کے وژن 'فکس، ایکسپینڈ اینڈ بلڈ' پالیسی پر تیزی سے کام جاری ہے۔ پنجاب کو جہاں بھی ضرورت پڑے گی، وفاقی حکومت ہر قدم پر ساتھ نبھائے گی۔ وفاقی حکومت پنجاب سمیت ہر صوبے کی ہر لیول پر سپورٹ کے لیے ہمہ وقت حاضر ہے۔

سینئر منسٹر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف بروقت ایکٹو نہ ہوتیں تو سیلاب سے پیدا ہونے والے مسائل کئی گنا بڑھ جاتے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے فلڈ ریسکیو اور ریلیف کے لیے دن رات کام کیا ہے۔ پہلے ہمیشہ بے ترتیبی سے اور آخری وقت پر کام ہوتا تھا مگر مریم نواز شریف نے پوری ٹیم کو پیشگی الرٹ کیا۔ جلاس کے دوران پنجاب میں فلڈ 2025 کے اسنیپ شاٹ کا تفصیلی خلاصہ پیش کیا گیا۔

اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے ستمبر میں ہائی لیول کمیٹی بنائی، تمام متعلقہ محکمے اس کا حصہ ہیں۔ پنجاب حکومت کی ہائی لیول کمیٹی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے دو لیولز پر کام کر رہی ہے۔ پہلی بار سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے جامع تخمینہ کے لیے سروے کر کے 100 فیصد ازالہ کیا گیا۔ پنجاب حکومت ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں تیاری، ریسکیو اور ریلیف اسٹریٹجی پر سختی سے کاربند ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے شارٹ ٹرم، میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم پلان شروع کر دیے گئے۔ پنجاب حکومت نے بدلتے ہوئے موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے اگلے تین سال کا جامع پلان تیار کر لیا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے ملک میں پہلی بار”کلائمیٹ ٹیگڈ بجٹ“ پیش کرنے کی منفرد روایت قائم کر دی ہے۔ سیلاب 2025 کے دوران 30 لاکھ افراد اور25 لاکھ جانوروں کو کامیابی سے ریسکیو کیا گیا۔

پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے ریلیف کے لیے معاوضے کی ادائیگی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پی ڈی ایم اے (PDMA) کو مکمل طور پر ری سٹرکچر کر دیا گیا۔ محکمہ انہار، سی اینڈ ڈبلیو، زراعت اور لائیو اسٹاک کے محکموں کو جدید خطوط پر استوار کر دیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں سیلاب سے متاثرہ تمام اریگیشن انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔

اریگیشن انفراسٹرکچر کے سیلاب کے لحاظ سے حساس پوائنٹس کی میپنگ مکمل، بیراجوں کی کیپیسٹی بڑھا دی گئی۔ ہیٹ ویو اور دیگر شدید موسمیاتی ایونٹس سے بچنے کے لیے صوبہ بھر میں الرٹس جاری کی جا رہی ہیں۔ حساس اضلاع میں جانوروں کے چارے، پانی، ادویات اور لائیو اسٹاک کی موبائل ڈسپنسریاں تعینات ہیں۔ صوبے میں لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو مکمل طور پر ری سٹرکچر کر دیا گیا ہے۔

تکنیکی اپ گریڈیشن کے تحت ریسکیو 1122 کو جدید ترین نیویگیشن سسٹم موصول ہو گیا ہے۔ ریسکیو 1122 کو ٹیکنالوجی، کیپیسٹی اور ہیومن ریسورس کے لحاظ سے مکمل طور پر اپڈیٹ کر دیا گیا۔ اجلاس میں مون سون پرتیاریوں کا تفصیلی ایکٹیویٹی چارٹ پیش کیا گیا۔ اجلاس کو پی ڈی ایم اے کی بہتری سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ حساس اضلاع میں پی ڈی ایم اے کی یونین کونسل، فیلڈ فارمیشنز اور ویئر ہاؤسز قائم کر دیے گئے ہیں۔

ون گورنمنٹ فلڈ مینجمنٹ کے تحت پنجاب کے تمام ڈیپارٹمنٹس مل کر فل اسپیکٹرم پر کام کر رہے ہیں۔ سیلاب سے بچاؤ کے لیے جلال پور فلڈ پروٹیکشن بند کا کام 31 جولائی تک مکمل کر لیا جائے گا۔اس موقع پر پنجاب میں سیلاب اور دیگر موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے جدید آلات کی خریداری کا چارٹ پیش کیا گیا۔ صوبے میں سیلاب کے بعد کی بحالی (Flood restoration) پر ہونے والی ترقی کی رپورٹ پیش کی گئی۔

جلال پور فلڈ پروٹیکشن بند، نوراجا بھٹہ فلڈ بند اور چندربن فلڈ بند کی بحالی کا تصویری ثبوت پیش کیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے کے لیے جدید واٹر ریسکیو ڈرونز خرید لیے گئے ہیں۔پنجاب میں ڈسٹرکٹ لیول پر سیلاب سے بچاؤ کے لیے بہت زبردست کام کیا گیا ہے۔اجلاس میں مون سون، فلیش فلڈز، کلاؤڈ برسٹ اور ریورائن فلڈ (دریاؤں کے سیلاب) پر تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ممکنہ سیلاب اور گرمی کی سخت لہر سے متاثرہ حساس اضلاع کی لسٹ پی ڈی ایم اے اور ڈی ڈی ایم اے سے شیئر کر دی گئی۔

شمالی علاقوں میں بارشیں زیادہ ہونے اور برف پگھلنے کی وجہ سے سیلاب کی کیفیت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ موسمیاتی تغیر کی بدولت کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈ جیسی غیر متوقع بارشوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس میں ٹمپریچر آؤٹ لک اور پری مون سون آؤٹ لک پر مبنی اہم رپورٹ پیش کی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھارتی آبی جارحیت کی صورت میں چناب، ستلج اور راوی میں طغیانی آنے کا اندیشہ ہے۔

بریفنگ کے مطابق جنوبی پنجاب، ملتان، ڈی جی خان، سرگودھا اور منڈی بہاؤالدین ہیٹ ویو کا زیادہ شکار ہیں۔ ملک میں ہیٹ ویو کی شدت کے باعث اب تک 18 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ میں مزید بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے تمام حساس اضلاع کو پیشگی اطلاع کردی گئی ہے۔پنجاب بھر میں فلڈ پروٹیکشن بندوں کا تفصیلی سروے شروع کیا جا چکا ہے۔

ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب حکومت کے ساتھ 24/7 رابطہ جاری ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تحت فرسٹ ریسپونڈرز، این جی اوز، 1122، ملٹری اور اسکلڈ رضا کاروں کو الرٹ کر دیا گیا۔ صوبے بھر کے تمام نالوں اور واٹر ویز کی صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ چکوال، تلہ گنگ اور پوٹھوہار ریجن میں غیر متوقع اور غیر روایتی بارشوں کا امکان ہے۔ پنجاب کے حساس اضلاع میں غیر روایتی بارش اور کلاؤڈ برسٹ مقامی سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔ کوہِ سلیمان رینج اور رود کوہی نظام کے علاقوں میں فلڈنگ کا سامنا ہو سکتا ہے۔