شوگر ملز ایسوسی ایشن کاایک بار پھر سرپلس چینی برآمد کرنے کا مطالبہ

برآمد سے قومی خزانے کو575ملین ڈالر کا انتہائی ضروری زرمبادلہ حاصل ہوگا‘ وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کو خط

بدھ 15 جولائی 2026 20:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 جولائی2026ء) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر سرپلس چینی برآمد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کو خط ارسال کر دیا جس میں حکومت کی جانب سے گزشتہ کرشنگ سیزن کے اختتام کے ایک ماہ کے اندر سرپلس چینی کو برآمد کرنے کے وعدے پر عملدرآمد کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں 7.967ملین میٹرک ٹن چینی کے ذخائر موجود تھے جبکہ ملک میں چینی کی سالانہ کھپت 6.76 ملین میٹرک ٹن ہو گی جسے نکال کر 1.181ملین میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔ اتنی مقدار میں چینی کو برآمد کرنے کیلئے پانچ ماہ کا عرصہ درکار ہے اور تب تک نئی چینی مارکیٹ میں آنا شروع ہو جائے گی۔

(جاری ہے)

گزشتہ دو برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر اور بروقت ادائیگیوں نے انہیں گنے کی بہتر اقسام کی کاشت اور ضروری مداخل کی خریداری کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں فی ایکڑ پیداوار اور گنے میں چینی کی ریکوری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اگلے کرشنگ سیزن میں گنے کی اچھی فصل ہونے کی توقع ہے جس کے نتیجے میں چینی زیادہ بنائی جائے گی۔ آئندہ کرشنگ سیزن میں 8ملین میٹرک ٹن چینی کی پیداوار متوقع ہے۔ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فی الوقت شوگر انڈسٹری کو چینی کے بڑے ذخائر رکھنے کے چیلنج کا سامنا ہے جبکہ اس کی طلب بہت کم ہے۔چینی کی موجودہ قیمتیں اس کی پیداواری لاگت سے انتہائی کم ہیں جبکہ گنے کی قیمت ہر سال بڑھ رہی ہے۔

چینی کے فروخت نہ ہونے والے اسٹاکس کی بدولت شوگر انڈسٹری کو بینکوں کے قرضوں اور کاشتکاروں کے بقایا جات کی ادائیگیوں میں فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔حکومت سے درخواست ہے کہ جلد از جلد6لاکھ میٹرک ٹن سرپلس چینی برآمد کی اجازت دی جائے اور27-2026کے کرشنگ سیزن کے آغاز کے ایک ماہ کے اندر، 5لاکھ 50ہزار ٹن کی باقی مقدار برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس سلسلے میں جلد فیصلہ نہ صرف شوگر انڈسٹری کو فنڈز کی قلت سے نمٹنے میں مدد دے گا بلکہ قومی خزانے کیلئے تقریباً 575ملین ڈالر کا انتہائی ضروری زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔