ذہنی انحطاط میں کمی لانے کی ڈبلیو ایچ او نئی عالمی ہدایات جاری

یو این جمعرات 16 جولائی 2026 20:15

ذہنی انحطاط میں کمی لانے کی ڈبلیو ایچ او نئی عالمی ہدایات جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 16 جولائی 2026ء) عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے ڈیمنشیا اور ذہنی صلاحیتوں میں انحطاط کے خطرے میں کمی لانے کے لیے نئی عالمی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیمنشیا کا سبب بننے والے عوامل پر زندگی بھر قابو رکھا جائے تو اس بیماری سے بڑی حد تک تحفظ ممکن ہے۔

دنیا بھر میں 5 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ لوگ ڈیمنشیا کا شکار ہیں جبکہ ہر سال تقریباً ایک کروڑ لوگوں میں اس بیماری کی تشخیص ہوتی ہے۔

اندازوں کے مطابق، ڈیمنشیا کے 60 سے 70 فیصد مریضوں کو یہ بیماری الزائمر کے سبب لاحق ہوتی ہے۔

Tweet URL

اگرچہ دماغ کو متاثر کرنے والا یہ مرض فی الوقت لاعلاج ہے تاہم 'ڈبلیو ایچ او' کا کہنا ہے کہ سائنسی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ صحت مند طرز زندگی اپنانے، دائمی بیماریوں کا موثر علاج کرانے اور ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے ذریعے اس بیماری کو دور رکھا جا سکتا ہے

'ڈبلیو ایچ او' کی رہنمائی

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ آج دنیا کو کہیں بہتر اندازہ ہے کہ کون سے عوامل ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں اور ادارے کی نئی رہنمائی انہی سائنسی معلومات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرتی ہے۔

(جاری ہے)

اب رکن ممالک کے پاس ایسے واضح اور مستند رہنما اصول موجود ہیں جن پر فوری عمل کر کے لوگوں کی ذہنی صحت کا بہتر تحفظ کیا جا سکتا ہے۔

ادارے کی نئی رہنمائی 2019 میں جاری کی گئی سفارشات میں تازہ ترین اور جامع اضافہ ہیں جن میں پوری زندگی کے دوران ذہنی صلاحیتوں میں کمی سے بچاؤ کے حوالے سے تازہ ترین سائنسی شواہد اور طریقہ ہائےکار کو شامل کیا گیا ہے۔

اس معاملے میں ادارے نے درج ذیل اقدامات اختیار کرنے کی سفارش کی ہے:

  • باقاعدگی سے جسمانی ورزش کی جائے۔
  • تمباکو نوشی ترک کر دی جائے۔
  • شراب نوشی میں کمی لائی جائے یا اس سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
  • متوازن اور صحت بخش غذا کا استعمال معمول بنایا جائے۔

فوڈ سپلیمنٹس سے گریز کی سفارش

ادارے نے ڈیمنشیا سے بچاؤ کے لیے ذہنی مشقوں، سماجی روابط برقرار رکھنے اور بلند فشار خون، ذیابیطس اور کولیسٹرول پر موثر طور سے قابو پانے کو بھی اہم قرار دیا ہے۔

پہلی مرتبہ فضائی آلودگی سے تحفط کو بھی ڈیمنشیا سے بچاؤ کی حکمت عملی میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح، بعض افراد میں سماعت کے آلات کا استعمال بھی ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ صرف ڈیمنشیا سے بچاؤ کی غرض سے وٹامن بی، وٹامن ای، اومیگا تھری فیٹی ایسڈ یا ملٹی وٹامنز استعمال نہ کیے جائیں یہاں تک کہ جسم میں کسی مخصوص وٹامن یا غذائی جزو کی کمی کی تشخیص نہ ہو، کیونکہ موجودہ شواہد سپلیمنٹس کے فوائد کو ان کے ممکنہ نقصانات سے زیادہ ثابت نہیں کرتے۔

بڑھتا ہوا عالمی بوجھ

ڈیمنشیا صرف یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ مریض کی خودمختاری، وقار اور روزمرہ زندگی کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ بیماری اہل خانہ اور تیمارداروں پر جذباتی اور مالی اعتبار سے بھی بھاری بوجھ ڈالتی ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، ڈیمنشیا کی وجہ سے عالمی معیشت کو ہر سال تقریباً 1.3 کھرب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جس میں تقریباً نصف حصہ ایسے افراد کی بلا معاوضہ نگہداشت کا ہے جو اپنے خاندان کے کسی فرد یا دوست کی تیمارداری کرتے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر ڈیمنشیا سے بچاؤ کے اقدامات کو غیر متعدی امراض اور ذہنی صحت سے متعلق خدمات کا باقاعدہ حصہ بنا دیا جائے تو اس بیماری کے عالمی بوجھ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو طویل، صحت مند اور خودمختار زندگی گزارنے کا موقع مہیا کیا جا سکتا ہے۔