میانمار: سمندر میں دو کشتیاں الٹنے سے 500 افراد ہلاک یا لاپتہ

یو این جمعرات 16 جولائی 2026 20:15

میانمار: سمندر میں دو کشتیاں الٹنے سے 500 افراد ہلاک یا لاپتہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 16 جولائی 2026ء) عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) اور پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے میانمار کے قریب سمندر میں دو کشتیاں ڈوبنے کی اطلاع پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جن پر 500 سے زیادہ لوگ سوار تھے۔

اطلاعات کے مطابق، دونوں کشتیاں جون کے آخر میں میانمار کی ریاست راخائن سے روانہ ہوئی تھیں جن میں سوار بیشتر روہنگیا افراد میں ایسے بھی شامل تھے جو بنگلہ دیش کے شہر کاکس بازار میں قائم پناہ گزین کیمپوں سے آئے تھے۔

Tweet URL

250 افراد کو لے جانے والی ایک کشتی روانگی سے کچھ ہی دیر بعد لاپتہ ہو گئی۔

(جاری ہے)

دوسری کشتی میں 280 مسافر موجود تھے جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ 8 جولائی کو میانمار کے علاقے ایراوادی کے ساحل کے قریب ڈوب گئی۔ اگرچہ ان واقعات اور جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم دونوں اداروں کو اندیشہ ہے کہ یہ کشتیاں ڈوبنے سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، حالیہ دنوں خطے کا سمندری موسم کشتی پر سفر کے لیے سازگار نہیں ہے۔

شدید بارشوں اور خطے میں آنے والے سیلاب نے سمندری سفر کے خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

تحفظ کی تلاش میں جان لیوا سفر

دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ طویل عرصہ سے جاری تنازع، بے گھری و نقل مکانی اور روہنگیا برادری کے لیے پائیدار حل کی عدم دستیابی، تباہ کن نتائج لا رہی ہے۔ میانمار میں بڑھتی ہوئی لڑائی، بگڑتے انسانی حالات اور بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپوں میں مخدوش حالات ان لوگوں کو تحفظ اور بہتر مستقبل کی تلاش میں جان لیوا سمندری سفر اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

یہ واقعات انسانی سمگلنگ اور لوگوں کی غیر قانونی نقل و حمل میں ملوث جرائم پیشہ گروہوں کے مسلسل خطرات کو بھی واضح کرتے ہیں جو تحفظ کی تلاش میں نکلنے والے بے بس افراد کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پناہ گزینوں کے لیے مدد کی اپیل

'آئی ایم او' اور 'یو این ایچ سی آر' کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے خطرناک ترین سمندری راستوں میں شمار ہونے والے اس راستے پر مزید جانی نقصان روکنے کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر موثر اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔

ان میں تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں کو مضبوط بنانا، پناہ اور تحفظ تک یقینی رسائی اور انسانی سمگلنگ و غیر قانونی نقل و حمل میں ملوث گروہوں کے خلاف موثر کارروائیاں شامل ہیں۔

دونوں اداروں نے روہنگیا کی فیاضانہ میزبانی کو سراہتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پناہ گزینوں اور ان کی میزبانی کرنے والی مقامی آبادی کی مدد جاری رکھے اور ان بنیادی عوامل کے خاتمے کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں کی جائیں جو لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرتے ہیں۔