اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری، کراچی بار کا عمر کی حد پر وضاحت کا مطالبہ

جوڈیشل کمیشن کو خط، 45 سال سے کم عمر امیدواروں سے متعلق غیر اعلانیہ پالیسی کی وضاحت مانگ لی

اتوار 19 جولائی 2026 11:25

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 جولائی2026ء) کراچی بار ایسوسی ایشن نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے لیے مبینہ غیر اعلانیہ عمر کی حد سے متعلق وضاحت طلب کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر اس حوالے سے کوئی غیر اعلانیہ پالیسی موجود ہے تو اسے آئین اور قانون کے مطابق واضح کیا جانا چاہیے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے بعض ارکان 45 سال سے کم عمر امیدواروں کی ہائی کورٹ کے جج کے طور پر تقرری کے حق میں نہیں ہیں، جس کے باعث اہل امیدواروں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

(جاری ہے)

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین میں ہائی کورٹ کے جج کی تقرری کے لیے اہلیت کا معیار واضح طور پر طے کیا گیا ہے، جبکہ آئینی ترمیم کے ذریعے کم از کم عمر 40 سال مقرر کی جا چکی ہے۔

اس لیے جو بھی امیدوار آئینی شرائط، مطلوبہ عمر اور قانونی تجربے پر پورا اترتا ہے، وہ تقرری کے لیے اہل تصور کیا جانا چاہیے۔کراچی بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ اگر 45 سال سے کم عمر امیدواروں کو غیر رسمی طور پر نااہل یا غیر موزوں سمجھا جا رہا ہے تو یہ پارلیمنٹ کی جانب سے مقرر کردہ آئینی معیار کو غیر مؤثر بنانے کے مترادف ہوگا۔ بار کا مؤقف ہے کہ ایسی کسی بھی غیر اعلانیہ شرط کی آئینی اور قانونی حیثیت واضح کی جانی چاہیے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ اگر عمر کی حد سے متعلق کوئی باضابطہ یا غیر رسمی پالیسی موجود ہے تو وہ آئین اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہو سکتی ہے۔ کراچی بار نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جوڈیشل کمیشن کو قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں، اس لیے وہ آئین میں درج شرائط سے ہٹ کر کوئی نیا معیار مقرر نہیں کر سکتا۔کراچی بار ایسوسی ایشن نے اپنے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اس معاملے پر باضابطہ وضاحت جاری کرے تاکہ ججوں کی تقرری کے عمل میں شفافیت برقرار رہے اور اہل امیدواروں میں پائے جانے والے ابہام کا خاتمہ ہو۔

بار کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے انتخاب میں اصل معیار دیانت، پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات، کردار اور آئین سے وابستگی ہونا چاہیے، نہ کہ کوئی غیر اعلانیہ عمر کی حد۔