متحدہ مجلس علما کا بھارت میں مسلم طلبہ اور تعلیمی اداروں کو درپیش صورتحال پر تشویش کا اظہارِ

منگل 4 اگست 2026 15:58

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنمامیرواعظ محمد عمر فاروق کی زیر صدارت متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر نے بھارت میں مسلم طلبہ اور تعلیمی اداروں کو درپیش حالیہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیاہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق متحدہ مجلس علما کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا کہ اترپردیش میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40میں سے 38بلاکس کو منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔

اس یونیورسٹی میں تقریبا تین ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔بیان میں یونیورسٹی کے مستقبل کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی صورتحال کو افسوسناک قراردیاگیا۔مجلس علمانے کہا کہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ نے اس معاملے پر براہِ راست مجلس سے رابطہ کیا ہے، کیونکہ اس صورتحال کا تعلق نہ صرف ان کے تعلیمی مستقبل سے ہے بلکہ ان خاندانوں سے بھی ہے جو اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے جموں و کشمیر سے باہر کے تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں۔

(جاری ہے)

متحدہ مجلس علما نے کہا کہ اگر کسی تعلیمی ادارے کے حوالے سے قانونی یا ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں تو ان سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار موجود ہے۔ ہزاروں بے قصور طلبہ کے مستقبل کو یونیورسٹی کی عمارتوں کے ساتھ مخدوش نہیں بنایا جا سکتا۔ طلبہ کا ان تنازعات سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں ان کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

بیان میں جموں میں ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کی حالیہ بندش کا بھی حوالہ دیا، جس سے وہاں زیرِ تعلیم طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوئی اور ان کے مستقبل بارے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ مجلس نے کہا کہ میڈیکل کالج میں بڑی تعداد میں مسلم طلبہ کے داخلے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد ادارے کی بندش سے طلبہ کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر مشکلات کا سامنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ خواہ معاملہ کسی مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والی یونیورسٹی کو انہدام کے خطرے کا ہو، یا مسلم طلبہ کی پیشہ ورانہ تعلیم اچانک متاثر ہونے کا، اس کا خمیازہ بالآخر طلبہ کو بھگتنا پڑتا ہے ۔متحدہ مجلس علمانے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ کسی بھی طالب علم کو مذہب، شناخت یا سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر تعلیمی مواقع سے محروم نہیں کیا جاناچاہیے۔مجلس علمانے کہا کہ تعلیم کو سیاست، تعصب اور فرقہ وارانہ مصلحتوں سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔