5 اگست مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر کی ایک انتہائی تلخ یاد کا دن ہے، سول سوسائٹی کارکن

جمعرات 6 اگست 2026 16:48

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ علاقے میں پابندیوں ،غیر قانونی گرفتاریوں اور کالے قوانین کے ذریعے سیاسی رہنمائوں ، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرانے کا بے دریغ سلسلہ مسلسل جاری ۔انہوں نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کو370اور 35اے دفعات کی منسوخی اور مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے غیر قانونی اقدام کو سات برس مکمل ہو گئے لیکن کشمیری بدستور مشکلات کا شکار ہیں اور بھارتی فورسز کی چیرہ دستیوں نے انکی جہنم بنادی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سول سوسائٹی کے ارکان نے سرینگر میں اپنے بیانات میں کہا کہ بھارتی حکومت نے علاقے میں اظہار رائے کی آزادی اورپرامن اجتماع کے حق پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے ، اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف سفری پابندیوں، پاسپورٹ کی منسوخی اور دھمکیوں کا استعمال مسلسل جاری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ سات برس میں مقبوضہ علاقے میں جبر واستبداد کے اپنے وحشیانہ ہتھکنڈوں میں تیزی لائی ہے، کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق اس وقت سلب ہیں اور علاقے میں ہرطرف خوف ودہشت کا ماحول ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے 5اگست 2019کے غیر قانونی اقدام کے خلاف گزشتہ روز احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور صحافیوں کو احتجاج کی کوریج سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکام نے ذرائع ابلاغ خاص طور پر روزنامہ اخبارات کو ہدایت کی تھی کہ وہ 5 اگست کو ہونے والے مظاہروں کے بارے میں خبروں کو شائع کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں جاری مسلسل بھارتی جبر ، مواصلاتی پابندیوں ، اظہار رائے کی آزادی پر قدغن جیسے اقدامات نے جمہوری ملک ہونے کے نام نہاد بھارتی دعوئوں کی قلعی مکمل طورپرکھول دی ہے۔