خودکشی پر زور دیا جارہا تھا، پوسٹمارٹم رپورٹ میں ثابت ہوگیا کہ میر رضا کو قتل کیا گیا

ہمیں نہیں معلوم کہ قتل میں کون سے عناصر ملوث ہیں پولیس کو سب خبر ہے، وکیل جبران ناصر اور والد کا پوری تفتیشی ٹیم کو تبدیل کرنے کا مطالبہ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 8 اگست 2026 22:15

خودکشی پر زور دیا جارہا تھا، پوسٹمارٹم رپورٹ میں ثابت ہوگیا کہ میر ..
کراچی ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 08 اگست 2026ء ) میررضا کیس کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ میں میر رضا پر تشدد ثابت ہوگیا، تھوڑی پر انجری اور ماتھے پر چوٹ کا نشان تھا، لگتا ہے قتل کرنے سے پہلے مکے مارے گئے۔ میر رضا کے والد اور وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کی ، وکیل جبران ناصر نے کہا کہ پولیس تفتیش نہیں کی جارہی بلکہ میر رضا کے خاندان کو ہراساں کیا جارہا ہے، اے آئی جی کراچی نے کہا کہ خاندان مان لے کہ میر رضا نے خودکشی کی ہے، میڈیکل رپورٹ میں میر رضا پر تشدد ثابت ہوگیا، میر رضا کو تھوڑی پر انجری ہوئی اور ماتھے پر چوٹ کا نشان تھا۔

چہرے کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔ لگتا ہے میر رضا کو قتل کرنے سے پہلے مکے مارے گئے۔

(جاری ہے)

ثابت ہوگیا کہ میر رضا کی کمر پر گولی لگی ، اثرات پانچویں پسلی پر آئے، گولی کی وجہ سے میررضا کے پھیپھڑوں میں خون جمع ہوگیا۔ والد نے کہا کہ میر رضا کو قتل کیا گیا، آج پھر ثابت ہوگیا اس کی تفتیش کی جائے۔وکیل نے کہا کہ اے آئی جی اور ایس ایس پی کی تحقیقاتی ٹیم پر بھروسہ نہیں، ہم پوری تفتیشی ٹیم کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم عدالت میں جاکر اپنی استدعا رکھیں گے۔

میر رضا کے والد نے کہا کہ خودکشی پر زور دیا جارہا تھا،پوسٹمارٹم رپورٹ میں ثابت ہوگیا کہ میر رضا کو قتل کیا گیا، ذمہ دار آدمی ہوکر بھی آئی جی نے کیسے غلط بات کی، 10دن سے کہہ رہے ہیں کہ تشدد ہواپولیس مان ہی نہیں رہی تھی، بیٹے سے متعلق غلط باتیں پھیلائی گئیں اگر خودکشی ہوتی تو رپورٹ میں آجاتی۔ہمیں نہیں معلوم کہ قتل میں کون سے عناصر ملوث ہیں پولیس کو سب خبر ہے