اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 اگست 2026ء) بھارتی نوجوانوں کی کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج نے بھارت میں ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔
اگرچہ اہم مطالبات منوائے جانے کے بعد احتجاجی سرگرمیاں بڑی حد تک ختم ہو چکی ہیں لیکن ان مظاہروں نے کئی اہم سوالات اور مسائل کو اجاگر کیا ہے۔
مودی حکومت پر دباؤ
25 جولائی کو وزیر تعلیم کا استعفیٰ مودی کے لیے ایک غیر معمولی پسپائی تصور کیا جا رہا ہے۔
مودی گزشتہ ایک دہائی سے خود کو مضبوط اور غیر متزلزل رہنما کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔اب مودی حکومت نے نوجوانوں کو اپنے قریب لانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پارلیمنٹ نے امتحانی پرچے لیک کرنے کے جرائم پر سزائیں سخت کر دی ہیں جبکہ متعدد شہروں میں مظاہرین کے خلاف درج مقدمات بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔
(جاری ہے)
ان مظاہروں نے یہ بھی ظاہر کیا کہ بھارت میں ڈیجیٹل منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔
مظاہرین نے اپنے پیغامات پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال کیا۔سوشل میڈیا
پلیٹ فارم ایکس پر سرگرم صارف مودی نے بھی نوجوانوں تک رسائی کے لیے انسٹاگرام کا رخ کیا اور پہلی بار ورٹیکل ویڈیوز جاری کیں، جو نوجوانوں میں زیادہ مقبول سمجھی جاتی ہیں۔نگرانی اور پابندیوں پر سوالات
احتجاجی تحریک نے یہ بھی بے نقاب کیا کہ حکام مظاہرین کی نگرانی اور شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کیمروں کا استعمال کر رہے ہیں۔
متعدد خواتین نے شکایت کی کہ احتجاج کے دوران بنائی گئی ان کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد انہیں آن لائن ریپ کی دھمکیاں اور توہین آمیز پیغامات موصول ہوئے۔
نئی دہلی کے مرکزی احتجاجی مقام کے اطراف انٹرنیٹ کی بندش نے بھی رابطوں کو متاثر کیا، جس کے باعث نوجوانوں کو باہمی رابطے کے نئے طریقے اختیار کرنا پڑے۔
ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ایکسیس ناؤ کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2025 میں بھارت دنیا بھر میں انٹرنیٹ بندشوں کے حوالے سے دوسرے نمبر پر رہا، جہاں احتجاج، تنازعات اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران مختلف علاقوں میں بارہا انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی۔
امتحانات سے بڑھ کر مسائل
اگرچہ احتجاج کی فوری وجہ امتحانی پرچوں کا لیک ہونا تھا لیکن جلد ہی نوجوانوں کا غصہ ملازمتوں کی کمی، معاشی مواقع کے فقدان اور اداروں پر اعتماد میں کمی جیسے وسیع تر مسائل کی طرف منتقل ہو گیا۔
بہت سے مظاہرین کے لیے برسوں کی محنت اور سخت مقابلے والے امتحانات کے باوجود غیر یقینی روزگار کا سامنا ایک بڑے معاشی بحران کی علامت بن گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہی عوامل اس تحریک کو اصل تنازعہ ختم ہونے کے بعد بھی زندہ رکھ سکتے ہیں۔ حکومت پیپر لیک رکوانے کی خاطر کارروائی تو کر سکتی ہے لیکن ان بنیادی شکایات کا حل آسان نہیں، جنہوں نے نوجوانوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا بڑھتا اثر و رسوخ
مظاہروں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر وسیع عوامی حمایت کے ساتھ ایک نئی تحریک کو جنم دیا لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ حمایت دیرپا سیاسی طاقت میں ڈھل جائے۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ نوجوان بھارتیوں کے مسائل سننے کے لیے ملک گیر دورے کرے گی اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف مہم جاری رکھے گی۔
مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں اب بھی احتجاج جاری ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دارالحکومت سے شروع ہونے والی تحریک کے پس پشت موجود غصہ اور بے چینی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
سی جے
پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے عوامی اداروں پر اعتماد کی بحالی اور ان کی غیرجانبداری کے لیے ''عوامی تحریک‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ان کے بقول، ''عوام ان معاملات سے سخت مایوس اور تھک چکے ہیں، اسی لیے ہماری تحریک کو اتنی بڑی عوامی حمایت ملی۔‘‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال سی جے پی ایک سیاسی جماعت کے بجائے ایک دباؤ ڈالنے والے گروپ کے طور پر کام کرے گی۔
نوجوان ووٹ کی اہمیت
ان مظاہروں کے بعد بھارت کی سیاسی جماعتوں کو نوجوان ووٹروں کے مطالبات اور ضروریات پر زیادہ توجہ دینا پڑ سکتی ہے۔
بھارت
کے نوجوان ایک بڑی انتخابی قوت ہیں لیکن احتجاجی توانائی کو ووٹوں میں تبدیل کرنا آسان نہیں ہو گا۔اگلے عام انتخابات میں ابھی تقریباً تین سال باقی ہیں تاہم امکان ہے کہ مودی کی حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں نوجوانوں کے غصے، مایوسی اور مطالبات کو سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گی۔