کیوبا پر نئی امریکی پابندیاں جابرانہ اور قابل مذمت، انسانی حقوق ماہرین

یو این ہفتہ 8 اگست 2026 19:45

کیوبا پر نئی امریکی پابندیاں جابرانہ اور قابل مذمت، انسانی حقوق ماہرین

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 اگست 2026ء) اقوام متحدہ کے ماہرینِ انسانی حقوق نے امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد کی گئی نئی پابندیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک خودمختار ریاست کو دھمکیوں اور جبر کے ذریعے اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

ادارے کی کونسل برائے انسانی حقوق کی جانب سے مقرر کیے گئے غیرجانبدار ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری اور سول سوسائٹی نے فوری اقدامات نہ کیے تو کیوبا 'خاموش غزہ' میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

یہ تشبیہ گزشتہ ماہ ملک کے دورے پر آنے والے امریکی کانگریس کے چار ارکان نے بھی استعمال کی تھی۔

Tweet URL

امریکہ نے جون 2026 سے کیوبا کی معیشت کے اہم شعبوں پر یکطرفہ پابندیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

جنوری میں اس کی تیل کی درآمدات روکنے کے اقدامات کیے گئے جبکہ اس سے پہلے وینزویلا سے کیوبا کو تیل کی ترسیل بھی روکی جا چکی تھی جو ماضی میں اسے تیل فراہم کرنے والا اہم ملک تھا۔

انسانی بحران کا خدشہ

23 جولائی کو عائد کی جانے والی پابندیوں کے ذریعے توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایندھن کی درآمد مزید محدود ہو گئی ہے جبکہ امدادی بنیاد پر فراہم کیے جانے والے ایندھن کی رسد بھی متاثر ہوئی ہے۔

یہ پابندیاں ایسے وقت عائد کی گئی ہیں جب کیوبا ایندھن کی شدید قلت اور بجلی کے تیسرے ملک گیر بحران کا سامنا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اس صورتحال میں توانائی، نقل و حمل، آبپاشی اور بنیادی عوامی خدمات کا نظام بیک وقت متاثر ہو رہا ہے جس کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین، بچوں، معمر افراد اور دیہی علاقوں کے کسانوں پر پڑ رہا ہے۔

کیوبا میں اقوام متحدہ کے اداروں نے بھی غذائی عدم تحفظ، ادویات اور بنیادی ضروری اشیا کی قلت پر تشویش ظاہر کی ہے۔

بجلی بند رہنے سے صحت کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے، ہسپتالوں میں ادویات کی کمی ہے اور سرطان کے مریضوں کے علاج کی سہولیات بھی محدود ہوتی جا رہی ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ خوراک کو کبھی سیاسی دباؤ ڈالنے کے ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی آبادی کو دانستہ زندہ رہنے کے بنیادی ذرائع سے محروم کرنے کے اقدامات دراصل زندگی کے بنیادی حق پر حملہ ہیں اور انسانی وقار کی اساس کو مجروح کرتے ہیں۔

عالمی امن و سلامتی کا مسئلہ

ماہرین نے کہا ہے کہ 20 جولائی کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کیوبا کی حکومت کو امریکہ کی قومی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے ہمہ جہت خطرہ قرار دیا گیا جبکہ یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے کہ کیوبا دہشت گردی یا تخریبی سرگرمیوں کی حمایت کرتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایسے اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کی دوسری شق کی خلاف ورزی اور کیوبا میں حکومت کی تبدیلی کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جس میں کئی دہائیوں سے جاری امریکی تجارتی پابندیاں بھی شامل ہیں۔

ماہرین نے امریکہ کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیوبا کی خودمختاری کے خلاف ہر طرح کی دھمکی آمیز اور معاندانہ کارروائیاں بند کرے اور ایسے تمام اقدامات واپس لے جو بین الاقوامی قانون سے متصادم ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو بین الاقوامی امن و سلامتی کا فوری اور سنگین مسئلہ سمجھ کر ہنگامی کارروائی کریں۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔