قابض حکام نام نہادسکیورٹی خطرات کی آڑ میں جموں وکشمیرمیں پابندیاں مزید سخت کرر ہے ہیں

پیر 10 اگست 2026 17:17

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 اگست2026ء) بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں قابض حکام نام نہاد سکیورٹی خطرات اور غیر تصدیق شدہ انتباہات کو بہانہ بناکر پابندیوں اور نگرانی کو مزید سخت کرر ہے ہیں جس سے علاقے میں معاشی اور سماجی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تازہ ترین خطرے کی فہرست چھ کشمیری پنڈت ملازمین کے نام شامل ہیں جس میں پاکستان کو ایک خطرہ کے طور پر پیش کرنے کے لیے گمنام انتباہات کا استعمال کیا گیا ہے اور مقبوضہ علاقے میں سکیورٹی کے نام پر پابندیوں میں اضافے کا جوازپیش کیا گیا ہے۔

ناقدین کاکہنا ہے کہ اس طرح کے انتباہات اکثر لوگوں میں خوف وہراس پھیلاتے ہیں، نقل و حرکت کو محدود کرتے ہیں اور اقتصادی سرگرمیوں میں خلل ڈالتے ہیں، خاص طور پر وادی کشمیر میں جہاں پہلے سے ہی وسیع پیمانے پر جابرانہ اقدامات کئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی کے دوران 64ہزار سے زائد کشمیری پنڈت خاندانوں کی نقل مکانی کو اب بھارتی حکام خصوصی حفاظتی انتظامات، ٹرانزٹ رہائش اور پنڈتوں کی واپسی کے لئے روزگار کے پیکجزکے جواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں جبکہ پور ی کشمیری آبادی کو مسلسل پابندیوں کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگست 2019 کے بعدغیر مقامی باشندوں کو جاری کیے گئے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کا اجراجن کی تعداد لاکھوں میں ہے، علاقے میںآبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ انتباہات اور طویل لاک ڈائو ن جیسی پابندیوں کا براہ راست اثر معیشت، تجارت، سیاحت اور عام لوگوں کی نقل و حرکت پر پڑتا ہے جس سےجموں وکشمیرمیں معاشی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کے بنیادی سیاسی تنازعے کو حل کرنے کے بجائے نام نہاد سکیورٹی خطرات کو بھارت کے فوجی مظالم کو جواز بخشنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔